Horror story

Horror story

by

Abdul Wali

Horror Kids

یہ کہانی ایک جوکر کے گرد گھومتی ہے جو اپنے عجیب و غریب کرتبوں سے بچوں کو حیران کرتا ہے۔ لیکن ایک پراسرار ہنسی اس کی دنیا میں خوف کو جگا دیتی ہے۔ آخر میں، بچے یہ سیکھتے ہیں کہ دوستی اور ہمت سے ہر خوف ک...

Chapter

01

جوکر کا عجیب و غریب دن

جوکر کا نام جیمی تھا اور وہ شہر کے سب سے مشہور سرکس میں کام کرتا تھا۔ جیمی کا چہرہ ہمیشہ رنگین پینٹ سے ڈھکا رہتا اور وہ ہر وقت ایک مسکراہٹ پہنے رہتا تھا۔ بچوں کو خوش کرنا اس کا سب سے پسندیدہ کام تھا۔ وہ اپنے عجیب و غریب کرتبوں سے سب کو حیران کر دیتا تھا۔ جیمی کی جیب میں ہمیشہ رنگ برنگی گیندیں اور جادو کی چھڑیاں ہوا کرتی تھیں۔

ایک دن، جب جیمی سرکس کے بعد اپنے خیمے میں واپس آیا تو اسے ایک عجیب و غریب ہنسی سنائی دی۔ یہ ہنسی کسی بچے کی نہیں تھی، بلکہ ایک پراسرار ہنسی تھی جو ہوا میں گونج رہی تھی۔ جیمی نے چاروں طرف دیکھا، لیکن اسے کچھ نظر نہیں آیا۔

"کون ہے؟" جیمی نے پوچھا۔ لیکن جواب میں صرف وہی پراسرار ہنسی سنائی دی۔

جیمی نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی جادو کی چھڑی نکالی اور اسے ہوا میں گھمایا۔ "چلو دیکھتے ہیں، یہ کون ہے!" جیمی نے خود کو دلاسا دیا۔

جیسے ہی جیمی نے چھڑی کو گھمایا، ایک چھوٹی روشنی کی کرن نمودار ہوئی اور پورے خیمے میں پھیل گئی۔ لیکن ہنسی کا پتہ نہیں چلا۔

اب جیمی کو تھوڑا سا خوف محسوس ہوا۔ "یہ کیا ہو رہا ہے؟" اس نے خود سے سوال کیا۔ جیمی نے سوچا کہ شاید یہ اس کے کرتبوں کا کوئی حصہ ہے جو وہ بھول گیا ہے، لیکن دل میں ایک ہلکا سا ڈر موجود تھا۔

اچانک، خیمے کے باہر سے بچے کی آواز آئی، "جیمی! تم باہر آؤ، ہم سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں!"

یہ آواز سن کر جیمی نے سکون کا سانس لیا۔ وہ تیزی سے خیمے سے باہر کی طرف بھاگا۔ باہر جا کر اس نے دیکھا کہ سارے بچے اس کا انتظار کر رہے تھے۔ بچے جیمی کو دیکھ کر خوش ہو گئے اور تالیاں بجانے لگے۔

لیکن ان سب کے درمیان، جیمی کے ذہن میں وہ پراسرار ہنسی ابھی بھی گونج رہی تھی۔ "یہ ہنسی کہاں سے آئی تھی؟" جیمی نے سوچا۔

بچوں کے درمیان جیمی نے اپنی مسکراہٹ واپس حاصل کر لی، مگر اس کے دل میں یہ سوال ابھی بھی موجود تھا۔ کیا یہ ہنسی اس کے کسی پرانے کرتب کا حصہ تھی یا واقعی کوئی پراسرار راز اس کے خیمے میں چھپا ہوا تھا؟

یہ جاننے کے لیے، جیمی نے فیصلہ کیا کہ وہ اس راز کی تہہ تک پہنچے گا۔ اور شاید اس سفر میں بچوں کی مدد کی ضرورت بھی پڑے۔ کیا جیمی اور بچے مل کر اس ہنسی کا راز کھول پائیں گے؟ یہ جاننے کے لیے آپ کو اگلا باب پڑھنا ہو گا!

Chapter

02

پراسرار ہنسی کا تعاقب

جیمی نے بچوں کو اپنی طرف آتے دیکھا تو اس کی ہنسی واپس آ گئی، مگر وہ پراسرار ہنسی اس کے دل میں ابھی بھی گونج رہی تھی۔ اس نے سوچا کہ یہ راز ایک دلچسپ مہم میں بدل سکتا ہے۔

"کیا ہوا جیمی؟" سارہ نے پوچھا، جو جیمی کی سب سے اچھی دوست تھی۔ "تم کچھ پریشان لگ رہے ہو۔"

جیمی نے مسکراتے ہوئے کہا، "بس ایک عجیب ہنسی سنائی دی۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس کا پتہ لگانا چاہیے۔ کیا تم سب میرے ساتھ ہو؟"

بچے خوشی سے تالیاں بجانے لگے۔ "ہم ضرور تمہارے ساتھ ہیں!" علی نے جوش سے کہا۔

سب بچے جیمی کے پیچھے چلنے لگے۔ وہ خیمے کے ارد گرد گھومنے لگے، جہاں جیمی نے وہ ہنسی سنی تھی۔ خیمے کے پیچھے ایک چھوٹا سا باغ تھا، جہاں رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے اور تتلیاں اڑ رہی تھیں۔

"شاید یہیں کہیں سے ہنسی آئی تھی،" جیمی نے سرگوشی کی۔

بچے باغ میں گھومنے لگے۔ اچانک، مریم نے ایک جھاڑی کے پیچھے کچھ ہلتا ہوا دیکھا۔ "وہ دیکھو! شاید وہیں کچھ ہے!" اس نے اشارہ کیا۔

جیمی اور بچے آہستہ آہستہ جھاڑی کی طرف بڑھے۔ جیسے ہی وہ قریب پہنچے، انہوں نے دیکھا کہ وہاں ایک چھوٹا سا ریڈیو رکھا ہوا تھا جس سے ہنسی کی آواز آ رہی تھی۔

"اوہ! یہ تو ریڈیو ہے!" جیمی نے ہنستے ہوئے کہا۔ "یہی وجہ تھی اس ہنسی کی!"

سب بچے ہنسنے لگے۔ "ہم تو سمجھ رہے تھے کہ کوئی بھوت ہے!" علی نے مذاق میں کہا۔

"یہ تو بہت ہی مزے دار تھا،" سارہ نے کہا۔ "ہم نے ایک نئی بات سیکھی کہ کبھی کبھی چیزیں اتنی پراسرار نہیں ہوتیں جتنی لگتی ہیں۔"

جیمی نے خوشی سے بچوں کی طرف دیکھا۔ "آپ سب کی مدد سے یہ راز کھل گیا۔"

لیکن جیمی کے دل میں اب بھی ایک سوال تھا۔ "یہ ریڈیو یہاں کس نے رکھا؟ کیا یہ کسی کا مذاق تھا یا کچھ اور؟"

یہ سوال جیمی اور بچوں کو ایک اور مہم کی طرف لے جا سکتا تھا۔ کیا وہ اس راز کو بھی کھول پائیں گے؟ یہ جاننے کے لیے آپ کو اگلا باب پڑھنا ہو گا!

Chapter

03

دوستی کی طاقت

جیمی اور بچے ابھی بھی ریڈیو کی ہنسی کے بارے میں سوچ رہے تھے جب اچانک جیمی کے دماغ میں ایک خیال آیا۔ "کیوں نہ ہم اس جوکر سے ملیں جو ہمیں اپنے کرتب دکھاتا ہے؟ شاید وہ ہمیں اس بارے میں کچھ بتا سکے!"

بچے متفق ہو گئے اور سب مل کر جوکر کی تلاش میں نکل پڑے۔ جوکر کا خیمہ باغ کے دوسرے کونے میں تھا۔ جب وہ وہاں پہنچے تو جوکر نے ان کا استقبال کیا۔

"ہیلو بچوں! آپ یہاں کیسے؟" جوکر نے ہنستے ہوئے کہا۔

"ہم آپ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں،" جیمی نے کہا۔ "ہمیں باغ میں ایک ریڈیو ملا جس سے ہنسی کی آواز آ رہی تھی۔ کیا آپ کو اس کے بارے میں کچھ معلوم ہے؟"

جوکر نے اپنی بڑی، رنگ برنگی ٹوپی کو ٹھیک کرتے ہوئے کہا، "اوہ! وہ ریڈیو تو میرا ہے۔ میں اسے یہاں چھوڑ گیا تھا۔ کبھی کبھی میں اپنے کرتبوں کے دوران بچوں کو ہنسانے کے لیے یہ ریڈیو استعمال کرتا ہوں۔"

بچے ہنس پڑے۔ "تو یہ آپ کا مذاق تھا!" مریم نے کہا۔

"نہیں، نہیں، یہ تو بس اتفاق تھا کہ آپ نے اسے اس طرح سنا۔ لیکن آپ سب نے بہت بہادری سے اس راز کو حل کیا۔ یہ دوستی کی بڑی طاقت ہے!" جوکر نے تعریف کی۔

علی نے خوشی سے کہا، "ہم سب دوست مل کر ہر مسئلہ حل کر سکتے ہیں!"

جوکر نے کہا، "آپ کی دوستی ہی آپ کو بہادر بناتی ہے۔ ہمیشہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔"

"ہمیں آپ کی باتیں بہت پسند آئیں۔" سارہ نے کہا۔ "ہم سیکھ رہے ہیں کہ دوستی کی طاقت کتنی اہم ہوتی ہے۔"

جوکر نے کہا، "آپ سب سمجھدار بچے ہیں۔ اور اب، وقت ہے کچھ مزید کرتبوں کا!"

جوکر نے اپنی جادوئی چھڑی نکالی اور کمال کے کرتب دکھانے لگا۔ بچے خوشی سے تالیاں بجانے لگے۔ ان کی دوستی اور جوکر کی مدد سے سب کا دل خوش ہو گیا۔

لیکن جوکر نے ایک راز کی بات کی۔ "کیا آپ جانتے ہیں کہ میری ہنسی کی طاقت بھی آپ کی طرح ہے؟"

"کیسے؟" جیمی نے پوچھا۔

"جب میں ہنستا ہوں، تو میں بھی اپنی خوفزدگی کو بھول جاتا ہوں۔ اور جب آپ سب دوست مل کر ہنستے ہیں، تو آپ بھی خوف کو بھلا دیتے ہیں۔"

یہ سن کر بچے مسکرانے لگے۔ "ہم ہمیشہ ہنسیں گے اور دوست بنے رہیں گے!" علی نے کہا۔

اب بچوں کے دل میں کوئی خوف نہیں تھا۔ لیکن جیمی کے دل میں ایک نیا سوال پیدا ہوا، "کیا ہمارے آگے کوئی اور مہم ہو سکتی ہے؟"

یہ سوال ان کے دلوں کو نئی جستجو کی طرف لے جا رہا تھا۔ کیا انہیں آگے کوئی اور راز معلوم ہو گا؟ یہ جاننے کے لیے آپ کو اگلا باب پڑھنا ہو گا!

Chapter

04

آئینے کا راز

جوکر نے بچوں کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ایک اور کرتب دکھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ انہیں ایک پرانے آئینے کے پاس لے گیا جو اس کی تھیٹر کے کونے میں رکھا ہوا تھا۔ آئینہ کچھ خاص دکھائی دیتا تھا۔ اس کی سطح پر عجیب و غریب نقش و نگار تھے اور اس کے کنارے سنہری رنگ کے تھے۔

"یہ آئینہ جادوئی ہے،" جوکر نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "یہ سچائی دکھاتا ہے، لیکن کبھی کبھی یہ ہماری دنیا سے کچھ مختلف چیزیں بھی دکھاتا ہے۔"

بچے جوکر کی باتوں کو دلچسپی سے سن رہے تھے۔ "کیا ہم دیکھ سکتے ہیں؟" سارہ نے جوش میں پوچھا۔

جوکر نے ہاں میں سر ہلایا اور ہاتھ کے اشارے سے بچوں کو آئینے کے قریب بلایا۔ "لیکن یاد رکھو، جو کچھ بھی تم دیکھو، اس سے ڈرنا نہیں ہے۔ یہ صرف ایک کرتب ہے۔"

جیمی نے آئینے کی طرف دیکھا اور اس میں اپنی عکس کو دیکھ کر مسکرا دیا۔ لیکن اس کے پیچھے، اسے کچھ دھندلا سا دکھائی دیا۔ وہ قریب ہو کر دیکھنے لگا۔

"یہ کیا ہے؟" جیمی نے حیرت سے پوچھا۔

جوکر نے کہا، "یہ آئینہ ہماری ہمت کو جانچتا ہے۔ کبھی کبھی، یہ چیزیں دکھاتا ہے جو ہمارے خیالوں میں چھپے خوف کو ظاہر کرتی ہیں۔"

بچوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ "لیکن ہم تو ڈرنے والے نہیں ہیں،" علی نے پرعزم لہجے میں کہا۔

جوکر نے مسکرا کر کہا، "یہی تو بات ہے، جب تم سب مل کر اپنی دوستی کی طاقت سے ڈر کو شکست دیتے ہو، تو آئینہ بھی کچھ نہیں کر سکتا۔"

اب بچوں کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ وہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر آئینے کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ اچانک، آئینے کی سطح پر ایک روشنی چمکی اور ان کے عکس میں پھولوں کا باغ دکھائی دینے لگا۔ وہ سب حیران رہ گئے۔

"یہ تو بہت خوبصورت ہے!" سارہ نے خوشی سے کہا۔

جوکر نے کہا، "یہی ہے دوستی کی طاقت۔ جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہوں، تو ہر خوف ایک خوبصورت خواب بن جاتا ہے۔"

بچے خوشی سے قہقہے لگانے لگے۔ جوکر نے آئینے کا راز سمجھا دیا تھا اور بچوں نے سیکھا تھا کہ دوستی اور ہمت سے کسی بھی خوف کو شکست دی جا سکتی ہے۔

لیکن جیسے ہی وہ آئینے سے پیچھے ہٹے، جیمی کو ایک اور عجیب و غریب نظر آیا۔ "کیا یہ آئینہ ہمیں کچھ اور بھی بتا رہا ہے؟" اس نے سوچا۔

اب ان کے دلوں میں ایک نیا سوال تھا: کیا آئینے میں کوئی ایسا راز چھپا ہے جو ابھی تک ان کے علم میں نہیں آیا؟ یہ جاننے کے لیے آپ کو اگلا باب پڑھنا ہو گا!

Chapter

05

ہنسی کی واپسی

جیمی نے آئینے کی طرف غور سے دیکھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ شاید آئینے میں کوئی اور راز بھی چھپا ہو جو ابھی تک نہ کھلا ہو۔

"کیا ہوا جیمی؟" سارہ نے پوچھا۔

"مجھے لگتا ہے کہ آئینہ ہمیں کچھ اور بھی بتانا چاہتا ہے،" جیمی نے کہا۔

جوکر نے مسکرا کر کہا، "چلو دیکھتے ہیں۔ شاید ہمیں آئینے کی کہانی کا ایک اور حصہ مل جائے۔"

سب بچوں نے دوبارہ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اس پر غور کرنا شروع کر دیا۔ اچانک، آئینے میں ایک ہنستی ہوئی آواز سنائی دی۔ یہ وہی پراسرار ہنسی تھی جس نے پہلے ان کو ڈرا دیا تھا۔

"یہ ہنسی کہاں سے آ رہی ہے؟" علی نے پوچھا۔

"مجھے لگتا ہے یہ کوئی پیغام ہے،" جوکر نے کہا۔ "ہنسی میں چھپی خوشی کو سمجھنے کی کوشش کرو۔"

بچے تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے اور پھر ہنسی کی طرف دھیان دیا۔ جیسے ہی انہوں نے اپنے دل کی سننے کی کوشش کی، انہیں آواز میں کوئی ڈر نہیں بلکہ خوشی محسوس ہونے لگی۔

"یہ ہنسی تو ہمیں خوشی دینے آئی ہے!" ماریہ نے خوشی سے کہا۔

"بالکل صحیح!" جوکر نے کہا۔ "یہ ہنسی ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ ہر خوف میں بھی خوشی چھپی ہو سکتی ہے، اگر ہم اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔"

بچوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور سب نے ہنسنا شروع کر دیا۔ ان کے دلوں میں ایک نئی روشنی بھر گئی تھی۔

"دوستی کی طاقت نے نہ صرف ہمیں آئینے کے راز سمجھائے بلکہ ہمیں یہ بھی سکھایا کہ ہر ہنسی میں خوشی ہوتی ہے،" جیمی نے کہا۔

لیکن جیسے ہی وہ سب خوشی سے آئینے کے سامنے سے ہٹے، آئینے کی سطح پر ایک اور پراسرار نشان ظاہر ہوا۔ یہ ایک چھوٹا سا دروازہ لگ رہا تھا۔

"یہ دروازہ کہاں کھلتا ہے؟" سارہ نے پوچھا۔

"یہ تو ہمیں کھول کر ہی معلوم ہو گا،" جوکر نے کہا۔ "لیکن اس کے لیے ہمیں ہمت اور دوستی کی طاقت کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔"

بچوں نے جوکر کے ساتھ مل کر دروازہ کھولنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے دلوں میں ہنسی کی خوشبو تھی اور ان کی آنکھوں میں دوستی کی چمک۔

"چلو، نئے رازوں کی طرف بڑھتے ہیں،" علی نے کہا۔

اب یہ دیکھنا باقی تھا کہ دروازے کے پیچھے کونسی نئی مہم جوئی ان کا انتظار کر رہی تھی۔ کیا وہ ایک نئی دنیا میں جائیں گے؟ یا کوئی نیا راز سامنے آئے گا؟ یہ جاننے کے لیے آپ کو اگلا باب پڑھنا ہو گا!

Cast of Characters

Joker

Joker

Protagonist

Horror back ground

Reader Comments

3 readers

Sign in or create an account to leave a comment.

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

The End

Horror story

by Abdul Wali

0 words · 5 chapters · 1 characters

Made with StoryMaker