Sad boy
by
Haroon Rashid
Comedy
Adults
یہ کہانی ایک غریب مزدور کی مزاحیہ زندگی کی ہے، جو اپنی روزمرہ کی مشکلات کو مزاح کے ذریعے جیتا ہے۔ اس کی زندگی میں اچانک کچھ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو اس کے لیے بظاہر مشکلات لے کر آئیں، مگر ان کا ن...
Contents
0 words · 3 chapters · 1 characters
Chapter
01
غریب مزدور کی روزمرہ کی زندگی
صبح کی پہلی کرنوں کے ساتھ ہی، غریب مزدور، جس کا نام فیاض تھا، اپنی پرانی چارپائی سے اٹھا۔ اس کی آنکھیں ابھی بھی نیند سے بوجھل تھیں، لیکن وقت کی قید میں جکڑا ہوا وہ جانتا تھا کہ دیر ہونے کا مطلب تھا آج کی مزدوری کا نقصان۔ اس نے جلدی جلدی اپنے معمولی کپڑے پہنے اور باورچی خانے کی طرف بڑھا جہاں اس کی بیوی، زہرہ، ناشتے کی تیاری میں مصروف تھی۔
"زہرہ، آج چائے میں کچھ زیادہ چینی ڈال دینا، کل کی تھکاوٹ ابھی تک موجود ہے،" فیاض نے مسکراتے ہوئے کہا۔ زہرہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا، "چینی تو کم ہے، لیکن تمہاری مسکراہٹ کا جادو کافی ہے۔"
فیاض نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور اپنے چھوٹے سے گھر سے باہر نکلا۔ باہر کی دنیا میں قدم رکھتے ہی اس نے محسوس کیا کہ آج کا دن پھر سے چیلنجز سے بھرپور ہوگا۔ گلی کے نکڑ پر اس کے دوست، بشیر، جو کہ اس کا ہم پیشہ تھا، پہلے سے ہی انتظار کر رہا تھا۔
"فیاض بھائی، آج تو موسم بھی ہمارا مذاق اڑا رہا ہے، دیکھو سورج کیسے چمک رہا ہے، جیسے کہہ رہا ہو کہ محنت کرو،" بشیر نے مذاق میں کہا۔ فیاض نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، "ہاں بھائی، سورج کو بھی پتہ ہے کہ مزدور کی زندگی میں دھوپ ہی دھوپ ہے، سایہ کہاں!"
وہ دونوں اپنے کام کے مقام کی طرف روانہ ہو گئے۔ آج کا کام ایک پرانی عمارت کی مرمت کا تھا، جس کے مالک نے ان کو جلدی کام ختم کرنے کی تاکید کی تھی۔ فیاض اور بشیر نے اپنی مزدوری شروع کی، اور کام کے دوران ہنسی مذاق کرتے رہے۔
"بشیر، کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہم بھی کسی دن رئیس بن جائیں، تو کیا کریں گے؟" فیاض نے شرارت سے پوچھا۔ بشیر نے جواب دیا، "پہلا کام تو یہ کریں گے کہ کام کرنا چھوڑ دیں گے! اور پھر چائے میں دو چمچ چینی ڈالیں گے، جیسے امیر لوگ کرتے ہیں۔"
دونوں دوستوں کی باتوں سے کام کا بوجھ ہلکا ہونے لگا۔ اسی دوران، عمارت کے مالک، جناب احمد، وہاں آئے۔ "بھئی، تم دونوں کیا یہاں محفل جمائے بیٹھے ہو؟ کام کب ہوگا؟" احمد صاحب نے تھوڑی سختی سے پوچھا۔
فیاض نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "صاحب، ہم تو آپ کے حکم کے غلام ہیں، کام تو بس ابھی ختم ہونے ہی والا ہے۔" احمد صاحب نے ایک نظر فیاض کی طرف دیکھا اور پھر ہنس پڑے، "تمہاری باتوں میں تو واقعی جادو ہے، چلو جلدی کام مکمل کرو۔"
دن کے اختتام پر، جب مزدوری مکمل ہوئی، فیاض اور بشیر اپنی مزدوری لے کر واپس اپنے گھر کی طرف چل پڑے۔ راستے میں بشیر نے پوچھا، "فیاض بھائی، تمہیں کبھی اپنی زندگی کی مشکلات سے ڈر نہیں لگتا؟"
فیاض نے توقف کے بعد جواب دیا، "بشیر، زندگی کی مشکلات سے ڈرنا تو سب کو آتا ہے، لیکن ان کا سامنا کرنے کے لیے ہنسنا ہمارا ہتھیار ہے۔ اگر ہم ہنس نہ سکیں تو یہ زندگی بھی ہمیں شکست دے دے گی۔"
گھر پہنچ کر، فیاض نے زہرہ کو آج کے دن کی کہانی سنائی، اور دونوں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔ زہرہ نے کہا، "فیاض، تمہاری یہ ہنسی ہی تو ہے جو ہماری زندگی کو خوبصورت بناتی ہے۔"
رات کو بستر پر لیٹے ہوئے، فیاض نے آسمان کی طرف دیکھا اور سوچا کہ کل کا دن بھی کیسا ہوگا۔ اسی لمحے، اس کے دماغ میں ایک عجیب خیال آیا کہ شاید کل کچھ نیا ہونے والا ہے۔ یہ خیال اس کے دل میں ایک تجسس پیدا کر گیا۔
کیا واقعی فیاض کی زندگی میں کل کوئی نیا موڑ آئے گا؟ یا یہ محض اس کی ایک خیال آرائی تھی؟ اگلے دن کا انتظار اس کے دل میں ایک نئی امید کے ساتھ شروع ہوا۔
"زہرہ، آج چائے میں کچھ زیادہ چینی ڈال دینا، کل کی تھکاوٹ ابھی تک موجود ہے،" فیاض نے مسکراتے ہوئے کہا۔ زہرہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا، "چینی تو کم ہے، لیکن تمہاری مسکراہٹ کا جادو کافی ہے۔"
فیاض نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور اپنے چھوٹے سے گھر سے باہر نکلا۔ باہر کی دنیا میں قدم رکھتے ہی اس نے محسوس کیا کہ آج کا دن پھر سے چیلنجز سے بھرپور ہوگا۔ گلی کے نکڑ پر اس کے دوست، بشیر، جو کہ اس کا ہم پیشہ تھا، پہلے سے ہی انتظار کر رہا تھا۔
"فیاض بھائی، آج تو موسم بھی ہمارا مذاق اڑا رہا ہے، دیکھو سورج کیسے چمک رہا ہے، جیسے کہہ رہا ہو کہ محنت کرو،" بشیر نے مذاق میں کہا۔ فیاض نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، "ہاں بھائی، سورج کو بھی پتہ ہے کہ مزدور کی زندگی میں دھوپ ہی دھوپ ہے، سایہ کہاں!"
وہ دونوں اپنے کام کے مقام کی طرف روانہ ہو گئے۔ آج کا کام ایک پرانی عمارت کی مرمت کا تھا، جس کے مالک نے ان کو جلدی کام ختم کرنے کی تاکید کی تھی۔ فیاض اور بشیر نے اپنی مزدوری شروع کی، اور کام کے دوران ہنسی مذاق کرتے رہے۔
"بشیر، کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہم بھی کسی دن رئیس بن جائیں، تو کیا کریں گے؟" فیاض نے شرارت سے پوچھا۔ بشیر نے جواب دیا، "پہلا کام تو یہ کریں گے کہ کام کرنا چھوڑ دیں گے! اور پھر چائے میں دو چمچ چینی ڈالیں گے، جیسے امیر لوگ کرتے ہیں۔"
دونوں دوستوں کی باتوں سے کام کا بوجھ ہلکا ہونے لگا۔ اسی دوران، عمارت کے مالک، جناب احمد، وہاں آئے۔ "بھئی، تم دونوں کیا یہاں محفل جمائے بیٹھے ہو؟ کام کب ہوگا؟" احمد صاحب نے تھوڑی سختی سے پوچھا۔
فیاض نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "صاحب، ہم تو آپ کے حکم کے غلام ہیں، کام تو بس ابھی ختم ہونے ہی والا ہے۔" احمد صاحب نے ایک نظر فیاض کی طرف دیکھا اور پھر ہنس پڑے، "تمہاری باتوں میں تو واقعی جادو ہے، چلو جلدی کام مکمل کرو۔"
دن کے اختتام پر، جب مزدوری مکمل ہوئی، فیاض اور بشیر اپنی مزدوری لے کر واپس اپنے گھر کی طرف چل پڑے۔ راستے میں بشیر نے پوچھا، "فیاض بھائی، تمہیں کبھی اپنی زندگی کی مشکلات سے ڈر نہیں لگتا؟"
فیاض نے توقف کے بعد جواب دیا، "بشیر، زندگی کی مشکلات سے ڈرنا تو سب کو آتا ہے، لیکن ان کا سامنا کرنے کے لیے ہنسنا ہمارا ہتھیار ہے۔ اگر ہم ہنس نہ سکیں تو یہ زندگی بھی ہمیں شکست دے دے گی۔"
گھر پہنچ کر، فیاض نے زہرہ کو آج کے دن کی کہانی سنائی، اور دونوں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔ زہرہ نے کہا، "فیاض، تمہاری یہ ہنسی ہی تو ہے جو ہماری زندگی کو خوبصورت بناتی ہے۔"
رات کو بستر پر لیٹے ہوئے، فیاض نے آسمان کی طرف دیکھا اور سوچا کہ کل کا دن بھی کیسا ہوگا۔ اسی لمحے، اس کے دماغ میں ایک عجیب خیال آیا کہ شاید کل کچھ نیا ہونے والا ہے۔ یہ خیال اس کے دل میں ایک تجسس پیدا کر گیا۔
کیا واقعی فیاض کی زندگی میں کل کوئی نیا موڑ آئے گا؟ یا یہ محض اس کی ایک خیال آرائی تھی؟ اگلے دن کا انتظار اس کے دل میں ایک نئی امید کے ساتھ شروع ہوا۔
Chapter
02
مزدوری اور مزاح
صبح کی روشنی نے فیاض کے چھوٹے سے گھر کو اپنوں کی گرمجوشی سے بھر دیا۔ زہرہ نے ناشتہ تیار کر کے فیاض کے سامنے رکھا۔ فیاض نے مسکراتے ہوئے کہا، "زہرہ، تمہاری چائے کی خوشبو ہی مجھے زندگی کی مشکلات سے لڑنے کی طاقت دیتی ہے۔"
زہرہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا، "فیاض، اگر چائے ہی تمہیں طاقت دیتی ہے تو مجھے اپنی مسکراہٹ کا کیا فائدہ؟"
فیاض نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا، "تمہاری مسکراہٹ تو وہ چمک ہے جو میری زندگی کو روشنی بخشتی ہے۔"
ناشتہ ختم کرنے کے بعد، فیاض نے اپنی مزدوری کے اوزار اٹھائے اور گھر سے نکل گیا۔ آج وہ شہر کے سب سے بڑے بازار میں مزدوری کے لیے گیا تھا۔ وہاں اس کی ملاقات اس کے پرانے دوست خالد سے ہوئی۔ خالد نے فیاض کو دیکھتے ہی کہا، "ارے فیاض، تم آج یہاں؟ لگتا ہے ہمیں پھر سے ایک ساتھ کام کرنے کا موقع مل گیا۔"
فیاض نے ہنستے ہوئے کہا، "خالد، تمہارے ساتھ کام کرنا تو ایسے ہے جیسے مزاحیہ فلم دیکھنا۔"
دونوں دوست بازار میں ایک پرانی عمارت کی تعمیر کے کام میں لگ گئے۔ دن بھر کی محنت کے بعد، جب شام ہوئی، تو دونوں نے کچھ وقت بیٹھ کر آرام کیا۔ خالد نے فیاض سے کہا، "یار، زندگی کی یہ مشکلات کب ختم ہوں گی؟"
فیاض نے سنجیدگی سے جواب دیا، "خالد، مشکلات تو زندگی کا حصہ ہیں، لیکن ان کے بیچ ہنسی ڈھونڈنا ہی اصل کامیابی ہے۔"
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور زور سے ہنس پڑے۔ وہ جانتے تھے کہ ان کی ہنسی ہی ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
اچانک، بازار میں ایک شور اٹھا۔ لوگ بھاگتے ہوئے نظر آئے۔ فیاض اور خالد نے دیکھا کہ ایک بڑی گاڑی بازار میں گھس آئی تھی۔ فیاض کچھ سمجھ پاتا، اس سے پہلے ہی ایک عجیب واقعہ ہو گیا۔
گاڑی سے ایک شخص اترا، جو بظاہر کسی امیر آدمی کا ملازم لگ رہا تھا۔ اس نے فیاض اور خالد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "تم دونوں ہی ہو جو ہمارے صاحب کے لیے کام کر سکتے ہو۔"
فیاض نے حیرت سے پوچھا، "ہم؟ لیکن کیوں؟"
ملازم نے جواب دیا، "ہمارے صاحب کو کچھ ایسا کرنا ہے جو ہر کوئی نہیں کر سکتا۔ تمہاری ہنسی اور کام کرنے کا انداز سن کر انہوں نے خاص طور پر تمہیں بلایا ہے۔"
یہ سن کر فیاض اور خالد کے چہرے پر حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت تھی۔ وہ جانتے تھے کہ یہ ان کی زندگی کا ایک نیا موڑ ہو سکتا ہے۔
گاڑی میں بیٹھتے ہوئے، فیاض نے خالد سے کہا، "یار، لگتا ہے ہماری ہنسی کا جادو چل گیا۔ دیکھتے ہیں کہ یہ نیا سفر ہمیں کہاں لے جاتا ہے۔"
اور اس طرح، فیاض اور خالد ایک نئی امید کے ساتھ ایک نئی منزل کی طرف روانہ ہو گئے، یہ سوچتے ہوئے کہ شاید کل کا دن ان کی زندگی میں کوئی نیا موڑ لے کر آئے گا۔
زہرہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا، "فیاض، اگر چائے ہی تمہیں طاقت دیتی ہے تو مجھے اپنی مسکراہٹ کا کیا فائدہ؟"
فیاض نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا، "تمہاری مسکراہٹ تو وہ چمک ہے جو میری زندگی کو روشنی بخشتی ہے۔"
ناشتہ ختم کرنے کے بعد، فیاض نے اپنی مزدوری کے اوزار اٹھائے اور گھر سے نکل گیا۔ آج وہ شہر کے سب سے بڑے بازار میں مزدوری کے لیے گیا تھا۔ وہاں اس کی ملاقات اس کے پرانے دوست خالد سے ہوئی۔ خالد نے فیاض کو دیکھتے ہی کہا، "ارے فیاض، تم آج یہاں؟ لگتا ہے ہمیں پھر سے ایک ساتھ کام کرنے کا موقع مل گیا۔"
فیاض نے ہنستے ہوئے کہا، "خالد، تمہارے ساتھ کام کرنا تو ایسے ہے جیسے مزاحیہ فلم دیکھنا۔"
دونوں دوست بازار میں ایک پرانی عمارت کی تعمیر کے کام میں لگ گئے۔ دن بھر کی محنت کے بعد، جب شام ہوئی، تو دونوں نے کچھ وقت بیٹھ کر آرام کیا۔ خالد نے فیاض سے کہا، "یار، زندگی کی یہ مشکلات کب ختم ہوں گی؟"
فیاض نے سنجیدگی سے جواب دیا، "خالد، مشکلات تو زندگی کا حصہ ہیں، لیکن ان کے بیچ ہنسی ڈھونڈنا ہی اصل کامیابی ہے۔"
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور زور سے ہنس پڑے۔ وہ جانتے تھے کہ ان کی ہنسی ہی ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
اچانک، بازار میں ایک شور اٹھا۔ لوگ بھاگتے ہوئے نظر آئے۔ فیاض اور خالد نے دیکھا کہ ایک بڑی گاڑی بازار میں گھس آئی تھی۔ فیاض کچھ سمجھ پاتا، اس سے پہلے ہی ایک عجیب واقعہ ہو گیا۔
گاڑی سے ایک شخص اترا، جو بظاہر کسی امیر آدمی کا ملازم لگ رہا تھا۔ اس نے فیاض اور خالد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "تم دونوں ہی ہو جو ہمارے صاحب کے لیے کام کر سکتے ہو۔"
فیاض نے حیرت سے پوچھا، "ہم؟ لیکن کیوں؟"
ملازم نے جواب دیا، "ہمارے صاحب کو کچھ ایسا کرنا ہے جو ہر کوئی نہیں کر سکتا۔ تمہاری ہنسی اور کام کرنے کا انداز سن کر انہوں نے خاص طور پر تمہیں بلایا ہے۔"
یہ سن کر فیاض اور خالد کے چہرے پر حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت تھی۔ وہ جانتے تھے کہ یہ ان کی زندگی کا ایک نیا موڑ ہو سکتا ہے۔
گاڑی میں بیٹھتے ہوئے، فیاض نے خالد سے کہا، "یار، لگتا ہے ہماری ہنسی کا جادو چل گیا۔ دیکھتے ہیں کہ یہ نیا سفر ہمیں کہاں لے جاتا ہے۔"
اور اس طرح، فیاض اور خالد ایک نئی امید کے ساتھ ایک نئی منزل کی طرف روانہ ہو گئے، یہ سوچتے ہوئے کہ شاید کل کا دن ان کی زندگی میں کوئی نیا موڑ لے کر آئے گا۔
Chapter
03
غریب مزدور کی کامیابی
فیاض اور خالد کی ہنسی اور خوشی کا جادو واقعی چل پڑا تھا۔ گاڑی میں بیٹھے ہوئے ان دونوں کی آنکھوں میں ایک نئی چمک تھی۔ گاڑی کے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے فیاض نے کہا، "یار خالد، یہ تو ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کوئی ہمیں ہماری ہنسی کی وجہ سے نوکری دے گا۔"
خالد نے شرارتی انداز میں جواب دیا، "ہماری ہنسی کا توڑ کوئی کر ہی نہیں سکتا۔ یہ تو ہمارے خون میں شامل ہے۔"
گاڑی ایک بڑے بنگلے کے سامنے رک گئی۔ دونوں حیرت زدہ تھے کہ یہ بنگلہ کسی محل سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ فیاض نے دروازہ کھولا اور نیچے اتر کر بنگلے کی شان و شوکت کو دیکھتے ہوئے بولا، "خالد، یہ تو واقعی کوئی خاص موقعہ ہے۔"
اندر داخل ہوتے ہی ایک شاندار ڈرائنگ روم میں ان کا استقبال کیا گیا۔ ہر طرف قیمتی فرنیچر اور آرٹ کے نمونے تھے۔ اچانک ایک مہذب و شائستہ آواز نے ان کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی، "خوش آمدید حضرات، میں ہوں صاحب کا پرسنل اسسٹنٹ، آپ دونوں کا انتظار کر رہا تھا۔"
فیاض نے جواب دیا، "شکریہ، لیکن یہ سب کچھ کیوں؟ ہمارا یہاں آنا کیسے ہوا؟"
اسسٹنٹ نے مسکراتے ہوئے کہا، "صاحب کو آپ کی ہنسی اور کام کرنے کا انداز پسند آیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ آپ دونوں ان کی ایک خاص تقریب میں مہمانوں کو ہنسانے کا انتظام کریں۔"
خالد نے ہنستے ہوئے کہا، "یہ تو ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ آپ فکر نہ کریں، ہم آپ کی تقریب کو یادگار بنا دیں گے۔"
تقریب کے دن، فیاض اور خالد نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں تقریب کو چار چاند لگا دیے۔ ان کی بے ساختہ ہنسی اور دلچسپ کہانیاں سن کر ہر کوئی خوشی سے لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔ لوگوں کی ہنسی کی آوازیں بنگلے کے ہر کونے میں گونج رہی تھیں۔
تقریب کے بعد صاحب نے فیاض اور خالد کو خاص طور پر بلایا۔ انہوں نے کہا، "آپ دونوں نے آج ہماری تقریب کو یادگار بنا دیا ہے۔ میں آپ کی یہ خدمت کبھی نہیں بھولوں گا۔"
فیاض نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "صاحب، یہ تو ہمارا کام تھا۔ ہم خود بھی اس لمحے کو کبھی نہیں بھولیں گے۔"
صاحب نے ایک چیک ان کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا، "یہ آپ دونوں کی محنت کا انعام ہے۔ یہ رقم آپ کی زندگی میں کچھ بہتری لا سکتی ہے۔"
چیک دیکھ کر فیاض اور خالد کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ یہ رقم ان کی توقعات سے کہیں زیادہ تھی۔
گاڑی میں واپس جاتے ہوئے، خالد نے کہا، "یار فیاض، ہم نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ ہماری ہنسی ہمیں اتنی بڑی کامیابی دلا سکتی ہے۔"
فیاض نے کہا، "ہاں، یار، کبھی کبھی زندگی میں کچھ ایسے مواقع بھی آتے ہیں جو ہمیں حیران کر دیتے ہیں۔"
اس خوشگوار لمحے کے بعد، دونوں دوست ایک نئی امید کے ساتھ اپنے معمول کی طرف لوٹ گئے، یہ جانتے ہوئے کہ ان کی ہنسی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
لیکن کیا یہ کامیابی ان کی زندگی میں مزید تبدیلیاں لائے گی؟ یا یہ صرف ایک عارضی خوشی تھی؟ ان سوالات کے جواب تو آنے والے دنوں میں ہی ملیں گے۔
خالد نے شرارتی انداز میں جواب دیا، "ہماری ہنسی کا توڑ کوئی کر ہی نہیں سکتا۔ یہ تو ہمارے خون میں شامل ہے۔"
گاڑی ایک بڑے بنگلے کے سامنے رک گئی۔ دونوں حیرت زدہ تھے کہ یہ بنگلہ کسی محل سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ فیاض نے دروازہ کھولا اور نیچے اتر کر بنگلے کی شان و شوکت کو دیکھتے ہوئے بولا، "خالد، یہ تو واقعی کوئی خاص موقعہ ہے۔"
اندر داخل ہوتے ہی ایک شاندار ڈرائنگ روم میں ان کا استقبال کیا گیا۔ ہر طرف قیمتی فرنیچر اور آرٹ کے نمونے تھے۔ اچانک ایک مہذب و شائستہ آواز نے ان کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی، "خوش آمدید حضرات، میں ہوں صاحب کا پرسنل اسسٹنٹ، آپ دونوں کا انتظار کر رہا تھا۔"
فیاض نے جواب دیا، "شکریہ، لیکن یہ سب کچھ کیوں؟ ہمارا یہاں آنا کیسے ہوا؟"
اسسٹنٹ نے مسکراتے ہوئے کہا، "صاحب کو آپ کی ہنسی اور کام کرنے کا انداز پسند آیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ آپ دونوں ان کی ایک خاص تقریب میں مہمانوں کو ہنسانے کا انتظام کریں۔"
خالد نے ہنستے ہوئے کہا، "یہ تو ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ آپ فکر نہ کریں، ہم آپ کی تقریب کو یادگار بنا دیں گے۔"
تقریب کے دن، فیاض اور خالد نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں تقریب کو چار چاند لگا دیے۔ ان کی بے ساختہ ہنسی اور دلچسپ کہانیاں سن کر ہر کوئی خوشی سے لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔ لوگوں کی ہنسی کی آوازیں بنگلے کے ہر کونے میں گونج رہی تھیں۔
تقریب کے بعد صاحب نے فیاض اور خالد کو خاص طور پر بلایا۔ انہوں نے کہا، "آپ دونوں نے آج ہماری تقریب کو یادگار بنا دیا ہے۔ میں آپ کی یہ خدمت کبھی نہیں بھولوں گا۔"
فیاض نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "صاحب، یہ تو ہمارا کام تھا۔ ہم خود بھی اس لمحے کو کبھی نہیں بھولیں گے۔"
صاحب نے ایک چیک ان کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا، "یہ آپ دونوں کی محنت کا انعام ہے۔ یہ رقم آپ کی زندگی میں کچھ بہتری لا سکتی ہے۔"
چیک دیکھ کر فیاض اور خالد کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ یہ رقم ان کی توقعات سے کہیں زیادہ تھی۔
گاڑی میں واپس جاتے ہوئے، خالد نے کہا، "یار فیاض، ہم نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ ہماری ہنسی ہمیں اتنی بڑی کامیابی دلا سکتی ہے۔"
فیاض نے کہا، "ہاں، یار، کبھی کبھی زندگی میں کچھ ایسے مواقع بھی آتے ہیں جو ہمیں حیران کر دیتے ہیں۔"
اس خوشگوار لمحے کے بعد، دونوں دوست ایک نئی امید کے ساتھ اپنے معمول کی طرف لوٹ گئے، یہ جانتے ہوئے کہ ان کی ہنسی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
لیکن کیا یہ کامیابی ان کی زندگی میں مزید تبدیلیاں لائے گی؟ یا یہ صرف ایک عارضی خوشی تھی؟ ان سوالات کے جواب تو آنے والے دنوں میں ہی ملیں گے۔
Cast of Characters
غریب مزدور
ProtagonistReader Comments
7 readers
Sign in or create an account to leave a comment.
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
The End
Sad boy
by Haroon Rashid
0 words · 3 chapters · 1 characters
Made with StoryMaker