Insaf
by
AzaanShahzad
Mystery
Kids
یہ کہانی ایک چھوٹے گاؤں کی ہے جہاں دیمی نے انصاف کے بارے میں ایک اہم سبق سیکھا۔ جب ان کے دوستوں کے کھلونے غائب ہو جاتے ہیں، تو وہ ایک مہم پر نکلتی ہے تاکہ اصل مجرم کا پتہ لگ سکے۔
Contents
0 words · 3 chapters · 1 characters
Chapter
01
غائب کھلونے
گاؤں کا صبح کا وقت تھا۔ سورج کی نرم کرنیں درختوں کی پتوں پر پڑ رہی تھیں، اور چڑیائیں خوشی سے چہچہا رہی تھیں۔ دیمی اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے باہر نکلی تھی۔ وہ سبھی بہت خوش تھے کیونکہ آج ان کے نئے کھلونے آئے تھے۔
دیمی کی سب سے اچھی دوست سارہ نے خوشی سے کہا، "دیکھو، میرے پاس کتنا خوبصورت گڑیا ہے!" گڑیا کا لباس گلابی رنگ کا تھا اور اس کے بال سنہرے تھے۔
علی نے اپنا کھلونا کار دکھاتے ہوئے کہا، "میری کار تو دیکھو، یہ کتنی تیز چلتی ہے!" وہ اپنی کار کو زمین پر چلاتے ہوئے سب کو دکھا رہا تھا۔
سب بچے اپنے کھلونوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھے کہ اچانک دیمی نے دیکھا کہ سارہ کا گڑیا غائب ہے۔ "سارہ، تمہاری گڑیا کہاں گئی؟" دیمی نے حیرانی سے پوچھا۔
سارہ نے ادھر ادھر دیکھا، لیکن گڑیا کا کوئی نشان نہیں تھا۔ "مجھے نہیں پتا! ابھی تو یہیں تھی!" سارہ نے پریشانی سے کہا۔
اسی لمحے علی نے بھی چیخ کر کہا، "میری کار بھی غائب ہو گئی!"
سب بچے حیران و پریشان ہو گئے۔ "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟" دیمی نے سوچا۔ "ہمیں پتہ لگانا ہوگا کہ یہ کس نے کیا ہے!"
دیمی نے اپنے دوستوں کو اکھٹا کیا اور کہا، "ہمیں مل کر یہ معمہ حل کرنا ہوگا۔ ہمیں پتہ لگانا ہوگا کہ آخر ہمارے کھلونے کہاں گئے۔"
سب نے اس کی بات مان لی اور مل کر کھلونے ڈھونڈنے کی ٹھانی۔ دیمی نے کہا، "ہمیں گاؤں کے ہر کونے کا جائزہ لینا ہوگا۔ شاید ہمیں کوئی سراغ مل جائے۔"
یہ کہہ کر سب بچے کھلونے ڈھونڈنے نکل پڑے۔ لیکن ان کے علم میں نہیں تھا کہ درختوں کے پیچھے چھپا ایک چھوٹا سا لڑکا، دوریمان، سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ وہ مسکرا رہا تھا، کیونکہ وہ ہی ان کھلونوں کو چوری کر رہا تھا۔
کیا دیمی اور اس کے دوست اصل مجرم کا پتہ لگا پائیں گے؟ کیا وہ اپنے کھلونے واپس حاصل کر سکیں گے؟ اس کا جواب آگے کے چپٹر میں ملے گا۔
دیمی کی سب سے اچھی دوست سارہ نے خوشی سے کہا، "دیکھو، میرے پاس کتنا خوبصورت گڑیا ہے!" گڑیا کا لباس گلابی رنگ کا تھا اور اس کے بال سنہرے تھے۔
علی نے اپنا کھلونا کار دکھاتے ہوئے کہا، "میری کار تو دیکھو، یہ کتنی تیز چلتی ہے!" وہ اپنی کار کو زمین پر چلاتے ہوئے سب کو دکھا رہا تھا۔
سب بچے اپنے کھلونوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھے کہ اچانک دیمی نے دیکھا کہ سارہ کا گڑیا غائب ہے۔ "سارہ، تمہاری گڑیا کہاں گئی؟" دیمی نے حیرانی سے پوچھا۔
سارہ نے ادھر ادھر دیکھا، لیکن گڑیا کا کوئی نشان نہیں تھا۔ "مجھے نہیں پتا! ابھی تو یہیں تھی!" سارہ نے پریشانی سے کہا۔
اسی لمحے علی نے بھی چیخ کر کہا، "میری کار بھی غائب ہو گئی!"
سب بچے حیران و پریشان ہو گئے۔ "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟" دیمی نے سوچا۔ "ہمیں پتہ لگانا ہوگا کہ یہ کس نے کیا ہے!"
دیمی نے اپنے دوستوں کو اکھٹا کیا اور کہا، "ہمیں مل کر یہ معمہ حل کرنا ہوگا۔ ہمیں پتہ لگانا ہوگا کہ آخر ہمارے کھلونے کہاں گئے۔"
سب نے اس کی بات مان لی اور مل کر کھلونے ڈھونڈنے کی ٹھانی۔ دیمی نے کہا، "ہمیں گاؤں کے ہر کونے کا جائزہ لینا ہوگا۔ شاید ہمیں کوئی سراغ مل جائے۔"
یہ کہہ کر سب بچے کھلونے ڈھونڈنے نکل پڑے۔ لیکن ان کے علم میں نہیں تھا کہ درختوں کے پیچھے چھپا ایک چھوٹا سا لڑکا، دوریمان، سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ وہ مسکرا رہا تھا، کیونکہ وہ ہی ان کھلونوں کو چوری کر رہا تھا۔
کیا دیمی اور اس کے دوست اصل مجرم کا پتہ لگا پائیں گے؟ کیا وہ اپنے کھلونے واپس حاصل کر سکیں گے؟ اس کا جواب آگے کے چپٹر میں ملے گا۔
Chapter
02
خفیہ سراغ
دیمی اور اس کے دوست گاؤں کے ہر کونے میں اپنے کھلونے ڈھونڈ رہے تھے۔ وہ باغ کے پیچھے چھپے کھلونوں کو دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ "ہمیں کچھ نہ کچھ تو ملنا چاہیے تھا،" علی نے کہا۔
دیمی نے سوچا کہ شاید کوئی ایسا ٹھکانہ ہو جہاں وہ دیکھ نہیں رہے تھے۔ "ہمیں سب سے پہلے ان جگہوں کو دیکھنا چاہیے جہاں ہم عام طور پر نہیں جاتے،" دیمی نے کہا۔
سارہ نے تجویز کیا کہ وہ گاؤں کے پرانے درختوں کے پاس دیکھیں۔ "شاید وہاں کوئی سراغ ہو،" اس نے کہا۔ سب بچے درختوں کی طرف چل پڑے۔
جب وہ وہاں پہنچے، تو دیمی کی نظر ایک چھوٹے سے کاغذ پر پڑی جو کہ ایک درخت کی جڑ میں پھنس گیا تھا۔ "یہ دیکھو!" اس نے پرجوش ہو کر کہا۔ سب نے قریب آ کر دیکھا۔
کاغذ پر ایک تصویر بنی ہوئی تھی۔ تصویر میں ایک چھوٹا سا مکان تھا جس کے دروازے پر ایک بڑا قفل لگا ہوا تھا۔ یہ مکان ان کے گاؤں کے کنارے پر واقع تھا، لیکن وہاں عام طور پر کوئی نہیں جاتا تھا۔
"یہ تو وہی مکان ہے جہاں ہم نے کبھی نہیں دیکھا،" علی نے کہا۔ "شاید وہاں کچھ چھپا ہوا ہو!"
سب نے جلدی جلدی وہاں جانے کا فیصلہ کیا۔ جب وہ مکان کے قریب پہنچے، تو انہیں کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔ دروازے کے پاس کچھ کھلونے پڑے تھے، جو کہ ان کے دوستوں کے کھلونے تھے!
"یہ تو ہمارا کھلونا ہے!" سارہ نے کہا اور جلدی سے اپنی گڑیا اٹھا لی۔
"لیکن یہ سب یہاں کیسے آیا؟" دیمی نے حیرانی سے پوچھا۔
تبھی دوریمان، جو کہ درختوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا، آگے آیا۔ "میں نے ہی یہ سب کیا تھا،" اس نے شرمندگی سے کہا۔ "میں صرف مذاق کر رہا تھا، یہ سوچ کر کہ یہ سب دلچسپ ہوگا۔"
دیمی نے مسکرانے کی کوشش کی، لیکن اس کی آنکھوں میں سنجیدگی تھی۔ "ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ایماندار ہونا چاہیے،" اس نے کہا۔ "دوستی کا مطلب ہے کہ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں، نہ کہ پریشان کریں۔"
دوریمان نے سر جھکا لیا اور معافی مانگی۔ "مجھے سمجھ آ گیا ہے،" اس نے کہا۔ "میں دوبارہ ایسا کچھ نہیں کروں گا۔"
سب بچوں نے مل کر اپنے کھلونے واپس حاصل کیے اور دوریمان کو معاف کر دیا۔ لیکن دیمی نے دل میں ٹھان لی کہ وہ ہمیشہ انصاف کے لیے کھڑی رہے گی۔
کیا دیمی اور اس کے دوستوں کو دوبارہ کوئی معمہ ملا؟ کیا دوریمان نے سچ میں سبق سیکھ لیا تھا؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں اگلے چپٹر میں جانا ہوگا۔
دیمی نے سوچا کہ شاید کوئی ایسا ٹھکانہ ہو جہاں وہ دیکھ نہیں رہے تھے۔ "ہمیں سب سے پہلے ان جگہوں کو دیکھنا چاہیے جہاں ہم عام طور پر نہیں جاتے،" دیمی نے کہا۔
سارہ نے تجویز کیا کہ وہ گاؤں کے پرانے درختوں کے پاس دیکھیں۔ "شاید وہاں کوئی سراغ ہو،" اس نے کہا۔ سب بچے درختوں کی طرف چل پڑے۔
جب وہ وہاں پہنچے، تو دیمی کی نظر ایک چھوٹے سے کاغذ پر پڑی جو کہ ایک درخت کی جڑ میں پھنس گیا تھا۔ "یہ دیکھو!" اس نے پرجوش ہو کر کہا۔ سب نے قریب آ کر دیکھا۔
کاغذ پر ایک تصویر بنی ہوئی تھی۔ تصویر میں ایک چھوٹا سا مکان تھا جس کے دروازے پر ایک بڑا قفل لگا ہوا تھا۔ یہ مکان ان کے گاؤں کے کنارے پر واقع تھا، لیکن وہاں عام طور پر کوئی نہیں جاتا تھا۔
"یہ تو وہی مکان ہے جہاں ہم نے کبھی نہیں دیکھا،" علی نے کہا۔ "شاید وہاں کچھ چھپا ہوا ہو!"
سب نے جلدی جلدی وہاں جانے کا فیصلہ کیا۔ جب وہ مکان کے قریب پہنچے، تو انہیں کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔ دروازے کے پاس کچھ کھلونے پڑے تھے، جو کہ ان کے دوستوں کے کھلونے تھے!
"یہ تو ہمارا کھلونا ہے!" سارہ نے کہا اور جلدی سے اپنی گڑیا اٹھا لی۔
"لیکن یہ سب یہاں کیسے آیا؟" دیمی نے حیرانی سے پوچھا۔
تبھی دوریمان، جو کہ درختوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا، آگے آیا۔ "میں نے ہی یہ سب کیا تھا،" اس نے شرمندگی سے کہا۔ "میں صرف مذاق کر رہا تھا، یہ سوچ کر کہ یہ سب دلچسپ ہوگا۔"
دیمی نے مسکرانے کی کوشش کی، لیکن اس کی آنکھوں میں سنجیدگی تھی۔ "ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ایماندار ہونا چاہیے،" اس نے کہا۔ "دوستی کا مطلب ہے کہ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں، نہ کہ پریشان کریں۔"
دوریمان نے سر جھکا لیا اور معافی مانگی۔ "مجھے سمجھ آ گیا ہے،" اس نے کہا۔ "میں دوبارہ ایسا کچھ نہیں کروں گا۔"
سب بچوں نے مل کر اپنے کھلونے واپس حاصل کیے اور دوریمان کو معاف کر دیا۔ لیکن دیمی نے دل میں ٹھان لی کہ وہ ہمیشہ انصاف کے لیے کھڑی رہے گی۔
کیا دیمی اور اس کے دوستوں کو دوبارہ کوئی معمہ ملا؟ کیا دوریمان نے سچ میں سبق سیکھ لیا تھا؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں اگلے چپٹر میں جانا ہوگا۔
Chapter
03
اصلی مجرم
ایک دن دیمی اور اس کے دوست میدان میں کھیل رہے تھے۔ آسمان صاف تھا اور سورج ہلکی روشنی بکھیر رہا تھا۔ سب بچے خوشی سے کھیل رہے تھے، لیکن دیمی کا دل ابھی تک دوریمان کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
"تم کیا سوچ رہی ہو، دیمی؟" سارہ نے پوچھا، جب وہ اپنے بالوں کو سنوار رہی تھی۔
"میں سوچ رہی ہوں کہ کیا دوریمان واقعی بدل گیا ہے،" دیمی نے جواب دیا۔
عین اسی وقت، دوریمان وہاں آیا اور سب کو مسکراتے ہوئے سلام کیا۔ "ہیلو دوستو! کیا میں بھی کھیل سکتا ہوں؟" اس نے پوچھا۔
سب نے اس کو خوش آمدید کہا اور کھیل میں شامل کر لیا۔ دیمی نے دیکھا کہ دوریمان اب زیادہ خوش مزاج لگ رہا تھا، جیسے وہ واقعی بدل گیا ہو۔
کھیل کے دوران، دوریمان نے سب کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔ اس نے سب کو برابر موقع دیا اور کسی کو بھی دھکا نہیں دیا۔ دیمی نے اس کی تعریف کی، "واہ دوریمان، تم واقعی بدل گئے ہو!"
دوریمان نے شرماتے ہوئے مسکرا کر کہا، "ہاں دیمی، میں نے سیکھ لیا ہے کہ دوستی کا مطلب ہے ایک دوسرے کا خیال رکھنا۔"
کھیل کے بعد، سب نے ملکر پانی پیا اور آرام کیا۔ اچانک، سارہ نے کہا، "ارے! میرا پانی کی بوتل کہاں گئی؟"
سب نے ادھر ادھر دیکھا، لیکن بوتل کہیں نظر نہیں آئی۔ دیمی نے کہا، "ہم سب مل کر ڈھونڈتے ہیں۔ شاید کہیں گر گئی ہو۔"
سب نے چپ چاپ ڈھونڈنا شروع کیا۔ کچھ دیر بعد، دوریمان نے کہا، "یہ دیکھو! بوتل یہاں جھاڑیوں کے پیچھے ہے!"
دیمی نے بوتل اٹھائی اور سارہ کو دے دی۔ "شکریہ دوریمان!" سارہ نے خوشی سے کہا۔
دیمی نے دیکھا کہ دوریمان واقعی بدل گیا ہے اور اب وہ سچ میں ان کا دوست بن چکا ہے۔ لیکن اسی لمحے، دوریمان نے کچھ عجیب سا کہا، "مجھے لگتا ہے کہ اس بار کوئی اور شرارت کر رہا ہے۔"
سب نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ "کیا مطلب؟" دیمی نے پوچھا۔
دوریمان نے سر ہلایا، "میں نے دیکھا تھا کہ کوئی یہاں چھپ کر ہمیں دیکھ رہا تھا۔ شاید یہ کوئی نیا معمہ ہے!"
دیمی نے پرجوش ہو کر کہا، "اگر ایسا ہے تو ہمیں پتہ لگانا ہوگا کہ یہ کون ہے۔"
سب بچوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ وہ اس نئے معمہ کو حل کریں گے۔ سب کے دلوں میں جوش تھا اور وہ اگلے دن کے لیے تیار ہو گئے، تاکہ اصلی مجرم کا پتہ لگا سکیں۔
کیا دیمی اور اس کے دوست اصلی مجرم کا پتہ لگا پائیں گے؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں اگلے چپٹر میں جانا ہوگا۔
"تم کیا سوچ رہی ہو، دیمی؟" سارہ نے پوچھا، جب وہ اپنے بالوں کو سنوار رہی تھی۔
"میں سوچ رہی ہوں کہ کیا دوریمان واقعی بدل گیا ہے،" دیمی نے جواب دیا۔
عین اسی وقت، دوریمان وہاں آیا اور سب کو مسکراتے ہوئے سلام کیا۔ "ہیلو دوستو! کیا میں بھی کھیل سکتا ہوں؟" اس نے پوچھا۔
سب نے اس کو خوش آمدید کہا اور کھیل میں شامل کر لیا۔ دیمی نے دیکھا کہ دوریمان اب زیادہ خوش مزاج لگ رہا تھا، جیسے وہ واقعی بدل گیا ہو۔
کھیل کے دوران، دوریمان نے سب کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔ اس نے سب کو برابر موقع دیا اور کسی کو بھی دھکا نہیں دیا۔ دیمی نے اس کی تعریف کی، "واہ دوریمان، تم واقعی بدل گئے ہو!"
دوریمان نے شرماتے ہوئے مسکرا کر کہا، "ہاں دیمی، میں نے سیکھ لیا ہے کہ دوستی کا مطلب ہے ایک دوسرے کا خیال رکھنا۔"
کھیل کے بعد، سب نے ملکر پانی پیا اور آرام کیا۔ اچانک، سارہ نے کہا، "ارے! میرا پانی کی بوتل کہاں گئی؟"
سب نے ادھر ادھر دیکھا، لیکن بوتل کہیں نظر نہیں آئی۔ دیمی نے کہا، "ہم سب مل کر ڈھونڈتے ہیں۔ شاید کہیں گر گئی ہو۔"
سب نے چپ چاپ ڈھونڈنا شروع کیا۔ کچھ دیر بعد، دوریمان نے کہا، "یہ دیکھو! بوتل یہاں جھاڑیوں کے پیچھے ہے!"
دیمی نے بوتل اٹھائی اور سارہ کو دے دی۔ "شکریہ دوریمان!" سارہ نے خوشی سے کہا۔
دیمی نے دیکھا کہ دوریمان واقعی بدل گیا ہے اور اب وہ سچ میں ان کا دوست بن چکا ہے۔ لیکن اسی لمحے، دوریمان نے کچھ عجیب سا کہا، "مجھے لگتا ہے کہ اس بار کوئی اور شرارت کر رہا ہے۔"
سب نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ "کیا مطلب؟" دیمی نے پوچھا۔
دوریمان نے سر ہلایا، "میں نے دیکھا تھا کہ کوئی یہاں چھپ کر ہمیں دیکھ رہا تھا۔ شاید یہ کوئی نیا معمہ ہے!"
دیمی نے پرجوش ہو کر کہا، "اگر ایسا ہے تو ہمیں پتہ لگانا ہوگا کہ یہ کون ہے۔"
سب بچوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ وہ اس نئے معمہ کو حل کریں گے۔ سب کے دلوں میں جوش تھا اور وہ اگلے دن کے لیے تیار ہو گئے، تاکہ اصلی مجرم کا پتہ لگا سکیں۔
کیا دیمی اور اس کے دوست اصلی مجرم کا پتہ لگا پائیں گے؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں اگلے چپٹر میں جانا ہوگا۔
Cast of Characters
Doreman
AntagonistCity
Reader Comments
5 readers
Sign in or create an account to leave a comment.
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
The End
Insaf
by AzaanShahzad
0 words · 3 chapters · 1 characters
Made with StoryMaker