fox and the graps
by
Anas Sarwar
Fantasy
Adults
ایک مکار لومڑی کے بارے میں کہانی جو انگوروں تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے اور اس سفر میں اپنی شخصیت کے کئی پوشیدہ پہلوؤں کو دریافت کرتی ہے۔ انگور، جو بظاہر ایک معمولی خوراک ہیں، اس کی زندگی میں کئی پیچیدہ...
Contents
0 words · 5 chapters · 2 characters
Chapter
01
لومڑی کی بھوک
سورج کی کرنیں جنگل کی گھنی شاخوں سے چھن کر زمین پر بکھر رہی تھیں۔ ہر طرف ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی، جو درختوں کے پتوں کو نرمی سے جھولا رہی تھی۔ اس پرسکون ماحول میں، لومڑی کی تیز نظر نے ایک چیز کو نشانہ بنایا تھا جو اُس کے دل کو بے چین کر رہی تھی۔ یہ انگوروں کا ایک خوشنما گچھا تھا، جو ایک اُونچے درخت کی شاخ پر لٹک رہا تھا۔
لومڑی، جو اپنے چالاکی اور مکارانہ فطرت کے لیے مشہور تھی، نے انگوروں کو دیکھتے ہی دل ہی دل میں خوشی محسوس کی۔ "آج کا دن تو بڑا مزے دار ہوگا،" اُس نے خود سے کہا۔ "یہ انگور تو میرا بہترین ناشتہ بنیں گے۔"
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ انگور بہت اُونچائی پر تھے۔ لومڑی نے اپنی لمبی دم کو ہلایا اور مختلف طریقے سوچنے لگی کہ کس طرح وہ ان انگوروں تک پہنچ سکتی ہے۔ اُس نے ایک جگہ دوڑ کر چھلانگ لگانے کی کوشش کی، مگر ناکام رہی۔
"یہ انگور تو واقعی بہت اُونچے ہیں،" لومڑی نے خود سے کہا۔ اُس نے دوبارہ چھلانگ لگانے کے لیے کچھ فاصلے پر جا کر دوڑ لگائی، مگر پھر بھی ناکام رہی۔ اب کی بار اُس نے زیادہ زور سے چھلانگ لگائی، مگر انگوروں کو چھونے کا بھی موقع نہ ملا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لومڑی کی بھوک اور بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ اُس نے سوچا کہ شاید کسی دوسرے طریقے سے وہ ان انگوروں تک پہنچ سکتی ہے۔ "اگر میں اس درخت کے تنے پر چڑھنے کی کوشش کروں؟" اُس نے خود سے مشورہ کیا، مگر فوراً ہی سمجھ گئی کہ یہ بھی بے سود ہوگا، کیونکہ درخت کا تنہ بہت ہموار تھا۔
اُس نے ایک لمحے کے لیے سوچا کہ شاید یہ انگور اُس کے لیے نہیں ہیں۔ مگر پھر اُس کے دماغ میں ایک خیال آیا۔ "ہو سکتا ہے یہ انگور ویسے بھی کھٹے ہوں،" اُس نے خود کو تسلی دی۔ "اگر یہ کھٹے ہوں تو میرا وقت اور محنت ضائع ہو جائے گی۔"
لیکن دل کے کسی کونے میں، لومڑی جانتی تھی کہ وہ خود کو دھوکہ دے رہی ہے۔ اُس کی بھوک اور انگوروں کی چمک دمک نے اُسے مجبور کر دیا کہ وہ ایک بار پھر کوشش کرے۔ "مجھے ایک اور طریقہ سوچنا ہوگا،" اُس نے فیصلہ کیا۔
لومڑی کی یہ جستجو اُس کے اندر کی مکارانہ فطرت کو مزید اُجاگر کر رہی تھی۔ ہر ناکامی کے بعد اُس کی عقل اُسے نئے نئے حیلے سکھا رہی تھی۔ کیا یہ انگور واقعی اُس کے نصیب میں ہیں یا نہیں، یہی سوال اُس کے ذہن میں گونج رہا تھا۔
اُس نے ایک آخری کوشش کرنے کا ارادہ کیا۔ "اگر میں کچھ زیادہ بلند جگہ سے چھلانگ لگاؤں تو شاید میں ان انگوروں تک پہنچ سکوں،" اُس نے سوچا۔ مگر سوال یہ تھا کہ کیا وہ اس بار کامیاب ہو پائے گی یا نہیں؟
لومڑی کی آنکھوں میں عزم کی چمک تھی۔ اُس نے ایک بلند چٹان کو اپنا نشانہ بنایا اور وہاں سے چھلانگ لگانے کی تیاری کرنے لگی۔ کیا یہ آخری کوشش اُس کی بھوک کو مٹا پائے گی؟ یا وہ پھر سے ناکامی کا سامنا کرے گی؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
لومڑی، جو اپنے چالاکی اور مکارانہ فطرت کے لیے مشہور تھی، نے انگوروں کو دیکھتے ہی دل ہی دل میں خوشی محسوس کی۔ "آج کا دن تو بڑا مزے دار ہوگا،" اُس نے خود سے کہا۔ "یہ انگور تو میرا بہترین ناشتہ بنیں گے۔"
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ انگور بہت اُونچائی پر تھے۔ لومڑی نے اپنی لمبی دم کو ہلایا اور مختلف طریقے سوچنے لگی کہ کس طرح وہ ان انگوروں تک پہنچ سکتی ہے۔ اُس نے ایک جگہ دوڑ کر چھلانگ لگانے کی کوشش کی، مگر ناکام رہی۔
"یہ انگور تو واقعی بہت اُونچے ہیں،" لومڑی نے خود سے کہا۔ اُس نے دوبارہ چھلانگ لگانے کے لیے کچھ فاصلے پر جا کر دوڑ لگائی، مگر پھر بھی ناکام رہی۔ اب کی بار اُس نے زیادہ زور سے چھلانگ لگائی، مگر انگوروں کو چھونے کا بھی موقع نہ ملا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لومڑی کی بھوک اور بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ اُس نے سوچا کہ شاید کسی دوسرے طریقے سے وہ ان انگوروں تک پہنچ سکتی ہے۔ "اگر میں اس درخت کے تنے پر چڑھنے کی کوشش کروں؟" اُس نے خود سے مشورہ کیا، مگر فوراً ہی سمجھ گئی کہ یہ بھی بے سود ہوگا، کیونکہ درخت کا تنہ بہت ہموار تھا۔
اُس نے ایک لمحے کے لیے سوچا کہ شاید یہ انگور اُس کے لیے نہیں ہیں۔ مگر پھر اُس کے دماغ میں ایک خیال آیا۔ "ہو سکتا ہے یہ انگور ویسے بھی کھٹے ہوں،" اُس نے خود کو تسلی دی۔ "اگر یہ کھٹے ہوں تو میرا وقت اور محنت ضائع ہو جائے گی۔"
لیکن دل کے کسی کونے میں، لومڑی جانتی تھی کہ وہ خود کو دھوکہ دے رہی ہے۔ اُس کی بھوک اور انگوروں کی چمک دمک نے اُسے مجبور کر دیا کہ وہ ایک بار پھر کوشش کرے۔ "مجھے ایک اور طریقہ سوچنا ہوگا،" اُس نے فیصلہ کیا۔
لومڑی کی یہ جستجو اُس کے اندر کی مکارانہ فطرت کو مزید اُجاگر کر رہی تھی۔ ہر ناکامی کے بعد اُس کی عقل اُسے نئے نئے حیلے سکھا رہی تھی۔ کیا یہ انگور واقعی اُس کے نصیب میں ہیں یا نہیں، یہی سوال اُس کے ذہن میں گونج رہا تھا۔
اُس نے ایک آخری کوشش کرنے کا ارادہ کیا۔ "اگر میں کچھ زیادہ بلند جگہ سے چھلانگ لگاؤں تو شاید میں ان انگوروں تک پہنچ سکوں،" اُس نے سوچا۔ مگر سوال یہ تھا کہ کیا وہ اس بار کامیاب ہو پائے گی یا نہیں؟
لومڑی کی آنکھوں میں عزم کی چمک تھی۔ اُس نے ایک بلند چٹان کو اپنا نشانہ بنایا اور وہاں سے چھلانگ لگانے کی تیاری کرنے لگی۔ کیا یہ آخری کوشش اُس کی بھوک کو مٹا پائے گی؟ یا وہ پھر سے ناکامی کا سامنا کرے گی؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
Chapter
02
پہلا منصوبہ
لومڑی نے اپنی ذہانت کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا۔ وہ جانتی تھی کہ سیدھی چھلانگ لگانے سے کامیابی مشکل ہے، اس لیے اس نے کچھ اور سوچا۔ اُس نے اپنے چاروں طرف کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ کچھ فاصلے پر ایک پرانا درخت کھڑا تھا، جس کی شاخیں انگوروں کے قریب تھیں۔ "اگر میں اس درخت پر چڑھ جاؤں اور وہاں سے انگوروں تک پہنچنے کی کوشش کروں تو شاید کامیابی مل جائے،" اس نے خود سے کہا۔
درخت تک پہنچنے کے لیے لومڑی کو ایک گھومتی ہوئی رہگزر سے گزرنا تھا، جو چھوٹے پتھروں اور کانٹوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس نے اپنے پنجوں کا دھیان رکھتے ہوئے آگے بڑھنا شروع کیا۔ راستہ مشکل تھا، مگر لومڑی کی بھوک نے اس کی ہمت بڑھا دی تھی۔
رہگزر کے اختتام پر پہنچ کر، لومڑی نے درخت کے تنے کو غور سے دیکھا۔ درخت پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے، اس کے ذہن میں ایک پرانی یاد تازہ ہو گئی۔ "میری ماں کہتی تھی کہ اگر دل سے کوشش کرو تو کوئی چیز ناممکن نہیں ہوتی،" وہ زیر لب مسکرائی۔
لومڑی نے درخت پر چڑھنا شروع کیا۔ دوسری شاخ پر پہنچ کر اس نے خود کو مستحکم کیا اور اپنی سانس کو معمول پر لایا۔ انگور اب بھی اس کی پہنچ سے دور تھے، مگر اتنے بھی نہیں جتنا پہلے تھے۔ اس نے اپنی دم کو توازن کے لیے استعمال کیا اور مزید چڑھنے لگی۔
پہلی بار درخت کی مضبوط شاخ پر پہنچ کر، لومڑی نے دیکھا کہ انگور واقعی میں وہیں تھے، جیسے وہ اس کا انتظار کر رہے ہوں۔ مگر ابھی بھی ایک آخری کوشش کی ضرورت تھی۔ "بہت قریب ہوں، بس ایک اور چھلانگ،" اس نے خود کو حوصلہ دیا۔
لومڑی نے اپنی تمام تر قوت کو جمع کر کے ایک آخری چھلانگ لگائی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں، دل کی دھڑکن تیز تھی، مگر جب اس نے اپنی آنکھیں کھولیں، تو وہ انگوروں کے قریب تھی، ان کی خوشبو نے اس کی تمام تر جدوجہد کو معنی دے دیا۔
مگر جیسے ہی اس نے انگور توڑنے کی کوشش کی، شاخ لرزنے لگی۔ "نہیں! ابھی نہیں،" لومڑی نے خود سے کہا، مگر شاخ کی کمزوری نے اسے نیچے گرنے پر مجبور کر دیا۔ زمین پر گرنے کے بعد، اس نے خود کو جھاڑا اور دوبارہ درخت کی طرف دیکھا۔
"یہ انگور شاید میرے نصیب میں نہیں ہیں،" اس نے تھکے ہارے لہجے میں کہا، مگر اس کے دل میں ایک نئی چمک تھی۔ "لیکن میں ہار نہیں مانوں گی۔ کوئی اور راستہ تلاش کروں گی۔"
لومڑی نے ایک گہری سانس لی اور اپنے ارد گرد کے جنگل کو دیکھا۔ "شاید کوئی اور راستہ ہے،" اس نے سوچا۔ کیا وہ اپنی نئی کوشش میں کامیاب ہو گی یا کوئی اور چال سوچے گی؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے، مگر لومڑی نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ دوبارہ کوشش کرے گی، کسی بھی صورت میں۔
اس کے ذہن میں ایک نئی حکمت عملی نے جنم لیا تھا، اور اس کے دل میں ایک نئی امید کی کرن روشن ہو گئی تھی۔ "یہ انگور میرے ہیں،" اس نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا، اور ایک نئی جستجو کے لیے تیار ہو گئی۔ کیا وہ اپنی مکارانہ فطرت کو استعمال کر کے ان انگوروں تک پہنچ سکے گی؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
درخت تک پہنچنے کے لیے لومڑی کو ایک گھومتی ہوئی رہگزر سے گزرنا تھا، جو چھوٹے پتھروں اور کانٹوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس نے اپنے پنجوں کا دھیان رکھتے ہوئے آگے بڑھنا شروع کیا۔ راستہ مشکل تھا، مگر لومڑی کی بھوک نے اس کی ہمت بڑھا دی تھی۔
رہگزر کے اختتام پر پہنچ کر، لومڑی نے درخت کے تنے کو غور سے دیکھا۔ درخت پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے، اس کے ذہن میں ایک پرانی یاد تازہ ہو گئی۔ "میری ماں کہتی تھی کہ اگر دل سے کوشش کرو تو کوئی چیز ناممکن نہیں ہوتی،" وہ زیر لب مسکرائی۔
لومڑی نے درخت پر چڑھنا شروع کیا۔ دوسری شاخ پر پہنچ کر اس نے خود کو مستحکم کیا اور اپنی سانس کو معمول پر لایا۔ انگور اب بھی اس کی پہنچ سے دور تھے، مگر اتنے بھی نہیں جتنا پہلے تھے۔ اس نے اپنی دم کو توازن کے لیے استعمال کیا اور مزید چڑھنے لگی۔
پہلی بار درخت کی مضبوط شاخ پر پہنچ کر، لومڑی نے دیکھا کہ انگور واقعی میں وہیں تھے، جیسے وہ اس کا انتظار کر رہے ہوں۔ مگر ابھی بھی ایک آخری کوشش کی ضرورت تھی۔ "بہت قریب ہوں، بس ایک اور چھلانگ،" اس نے خود کو حوصلہ دیا۔
لومڑی نے اپنی تمام تر قوت کو جمع کر کے ایک آخری چھلانگ لگائی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں، دل کی دھڑکن تیز تھی، مگر جب اس نے اپنی آنکھیں کھولیں، تو وہ انگوروں کے قریب تھی، ان کی خوشبو نے اس کی تمام تر جدوجہد کو معنی دے دیا۔
مگر جیسے ہی اس نے انگور توڑنے کی کوشش کی، شاخ لرزنے لگی۔ "نہیں! ابھی نہیں،" لومڑی نے خود سے کہا، مگر شاخ کی کمزوری نے اسے نیچے گرنے پر مجبور کر دیا۔ زمین پر گرنے کے بعد، اس نے خود کو جھاڑا اور دوبارہ درخت کی طرف دیکھا۔
"یہ انگور شاید میرے نصیب میں نہیں ہیں،" اس نے تھکے ہارے لہجے میں کہا، مگر اس کے دل میں ایک نئی چمک تھی۔ "لیکن میں ہار نہیں مانوں گی۔ کوئی اور راستہ تلاش کروں گی۔"
لومڑی نے ایک گہری سانس لی اور اپنے ارد گرد کے جنگل کو دیکھا۔ "شاید کوئی اور راستہ ہے،" اس نے سوچا۔ کیا وہ اپنی نئی کوشش میں کامیاب ہو گی یا کوئی اور چال سوچے گی؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے، مگر لومڑی نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ دوبارہ کوشش کرے گی، کسی بھی صورت میں۔
اس کے ذہن میں ایک نئی حکمت عملی نے جنم لیا تھا، اور اس کے دل میں ایک نئی امید کی کرن روشن ہو گئی تھی۔ "یہ انگور میرے ہیں،" اس نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا، اور ایک نئی جستجو کے لیے تیار ہو گئی۔ کیا وہ اپنی مکارانہ فطرت کو استعمال کر کے ان انگوروں تک پہنچ سکے گی؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
Chapter
03
خواب کی دنیا
لومڑی نے جنگل کی طرف ایک آخری نظر ڈالی اور اپنے دل میں ایک نیا عزم محسوس کیا۔ رات کا وقت تھا، اور چاندنی کی ہلکی روشنی نے درختوں کے درمیان ایک خوابناک سا ماحول پیدا کر دیا تھا۔ اس نے سوچا کہ شاید رات کی خاموشی میں وہ اپنی منصوبہ بندی بہتر طریقے سے کر سکے گی۔
"یہ وقت ہے کہ میں اپنے اندر چھپے ہوئے رازوں کو جانوں،" لومڑی نے خود سے کہا۔ اس کے دماغ میں انگوروں کی مٹھاس کا خیال بار بار آ رہا تھا، جیسے وہ کوئی نایاب خزانہ ہوں۔ "مگر اس بار، میں اپنے دماغ کی چالاکی کو استعمال کروں گی۔"
لومڑی نے اپنی آنکھیں بند کیں اور ایک گہری سانس لی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کا دماغ آہستہ آہستہ پرسکون ہو رہا ہے، اور وہ ایک خواب کی دنیا میں داخل ہو رہی ہے۔ وہاں، سب کچھ ممکن تھا۔
اس نے خود کو ایک وسیع و عریض باغ میں پایا، جہاں انگوروں کی بیلیں ہر طرف پھیلی ہوئی تھیں۔ انگوروں کی خوشبو اس کے نتھنوں میں سرایت کر گئی، اور اس نے دیکھا کہ ہر انگور کی بیل پر روشن ستارے ٹمٹما رہے ہیں، جیسے وہ اسے بلا رہے ہوں۔
"یہ خواب کی دنیا ہے،" لومڑی نے خود سے کہا۔ "یہاں میں وہ سب کچھ کر سکتی ہوں جو حقیقت کی دنیا میں ممکن نہیں۔"
اچانک، اس نے خود کو ایک پہاڑی کے اوپر پایا، جہاں سے انگوروں کی بیلیں نیچے جھک رہی تھیں۔ وہ انگوروں کو پکڑنے کے لیے تیار تھی، اور اس بار اس نے خود کو مضبوط اور پرعزم محسوس کیا۔
"یہاں، میں ناکام نہیں ہوسکتی،" اس نے خود کو یقین دلایا۔ "یہ میرا خواب ہے، اور میں یہاں کی ملکہ ہوں۔"
لومڑی نے ہاتھ بڑھایا اور انگوروں کا ایک خوشہ توڑ لیا۔ اس کے لبوں پر ایک مسکراہٹ تھی، اور اس نے انگوروں کو اپنے ہاتھوں میں محسوس کیا، ان کی نرمی اور مٹھاس کو۔
"یہ خواب کی دنیا ہے، لیکن یہ میری حقیقت بھی بن سکتی ہے،" اس نے خود سے کہا۔ "مجھے بس اپنے آپ پر یقین کرنا ہوگا۔"
اسی لمحے، اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ وہ اب بھی اسی درخت کے نیچے بیٹھی تھی، مگر اس کے دل میں ایک نئی روشنی تھی۔ "میں جانتی ہوں کہ مجھے کیا کرنا ہے،" اس نے کہا۔ "یہ انگور میرے ہیں، اور میں ان تک پہنچ کر رہوں گی۔"
لومڑی نے اپنے ارادے کو مضبوطی سے تھام لیا اور اس خواب کی دنیا کی یاد کو اپنے دل میں قید کر لیا۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی مکارانہ فطرت اور اس کے خوابوں کی طاقت اسے اس سفر میں کامیاب بنائیں گے۔
لیکن کیا وہ واقعی خواب کی دنیاوں کو حقیقت میں بدل پائے گی؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے۔ مگر ایک بات طے تھی، کہ وہ اپنی اس جستجو کو کبھی نہیں چھوڑے گی۔
کیا لومڑی اپنی نئی حکمت عملی کے ساتھ انگوروں تک پہنچ پائے گی؟ یا خواب کی دنیا میں ہی کھو جائے گی؟ یہ راز کھلنے کے لیے ہمیں اگلے باب کا انتظار کرنا ہوگا۔
"یہ وقت ہے کہ میں اپنے اندر چھپے ہوئے رازوں کو جانوں،" لومڑی نے خود سے کہا۔ اس کے دماغ میں انگوروں کی مٹھاس کا خیال بار بار آ رہا تھا، جیسے وہ کوئی نایاب خزانہ ہوں۔ "مگر اس بار، میں اپنے دماغ کی چالاکی کو استعمال کروں گی۔"
لومڑی نے اپنی آنکھیں بند کیں اور ایک گہری سانس لی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کا دماغ آہستہ آہستہ پرسکون ہو رہا ہے، اور وہ ایک خواب کی دنیا میں داخل ہو رہی ہے۔ وہاں، سب کچھ ممکن تھا۔
اس نے خود کو ایک وسیع و عریض باغ میں پایا، جہاں انگوروں کی بیلیں ہر طرف پھیلی ہوئی تھیں۔ انگوروں کی خوشبو اس کے نتھنوں میں سرایت کر گئی، اور اس نے دیکھا کہ ہر انگور کی بیل پر روشن ستارے ٹمٹما رہے ہیں، جیسے وہ اسے بلا رہے ہوں۔
"یہ خواب کی دنیا ہے،" لومڑی نے خود سے کہا۔ "یہاں میں وہ سب کچھ کر سکتی ہوں جو حقیقت کی دنیا میں ممکن نہیں۔"
اچانک، اس نے خود کو ایک پہاڑی کے اوپر پایا، جہاں سے انگوروں کی بیلیں نیچے جھک رہی تھیں۔ وہ انگوروں کو پکڑنے کے لیے تیار تھی، اور اس بار اس نے خود کو مضبوط اور پرعزم محسوس کیا۔
"یہاں، میں ناکام نہیں ہوسکتی،" اس نے خود کو یقین دلایا۔ "یہ میرا خواب ہے، اور میں یہاں کی ملکہ ہوں۔"
لومڑی نے ہاتھ بڑھایا اور انگوروں کا ایک خوشہ توڑ لیا۔ اس کے لبوں پر ایک مسکراہٹ تھی، اور اس نے انگوروں کو اپنے ہاتھوں میں محسوس کیا، ان کی نرمی اور مٹھاس کو۔
"یہ خواب کی دنیا ہے، لیکن یہ میری حقیقت بھی بن سکتی ہے،" اس نے خود سے کہا۔ "مجھے بس اپنے آپ پر یقین کرنا ہوگا۔"
اسی لمحے، اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ وہ اب بھی اسی درخت کے نیچے بیٹھی تھی، مگر اس کے دل میں ایک نئی روشنی تھی۔ "میں جانتی ہوں کہ مجھے کیا کرنا ہے،" اس نے کہا۔ "یہ انگور میرے ہیں، اور میں ان تک پہنچ کر رہوں گی۔"
لومڑی نے اپنے ارادے کو مضبوطی سے تھام لیا اور اس خواب کی دنیا کی یاد کو اپنے دل میں قید کر لیا۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی مکارانہ فطرت اور اس کے خوابوں کی طاقت اسے اس سفر میں کامیاب بنائیں گے۔
لیکن کیا وہ واقعی خواب کی دنیاوں کو حقیقت میں بدل پائے گی؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے۔ مگر ایک بات طے تھی، کہ وہ اپنی اس جستجو کو کبھی نہیں چھوڑے گی۔
کیا لومڑی اپنی نئی حکمت عملی کے ساتھ انگوروں تک پہنچ پائے گی؟ یا خواب کی دنیا میں ہی کھو جائے گی؟ یہ راز کھلنے کے لیے ہمیں اگلے باب کا انتظار کرنا ہوگا۔
Chapter
04
حقیقت کی تلخی
لومڑی نے اپنے ارادے کو مضبوطی سے تھامے ہوئے، ایک بار پھر انگوروں کی طرف دیکھا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ سفر آسان نہیں ہوگا، مگر اس کے دل میں ایک عجیب سا عزم بیدار ہو چکا تھا۔ وہ درخت کے نیچے سے اٹھی اور ایک بار پھر اپنی حکمت عملی پر غور کرنے لگی۔
"مجھے اپنی چالاکی کا استعمال کرنا ہوگا،" اس نے خود سے کہا۔ "میں صرف کوشش کرنے سے نہیں رکوں گی، بلکہ اس بار میں کچھ نیا کرنے کی کوشش کروں گی۔"
لومڑی نے درخت کے قریب جا کر اس کی شاخوں کا جائزہ لیا۔ اس نے محسوس کیا کہ درخت کے کچھ حصے نرم اور کمزور ہیں، جہاں وہ اپنی تیز پنجوں کا استعمال کر سکتی ہے۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ کسی طرح ان شاخوں کو نیچے لا سکے تو شاید وہ انگوروں تک پہنچ پائے گی۔
"یہ میرا آخری موقع ہو سکتا ہے،" اس نے خود کو سمجھایا۔ "مگر مجھے کوشش کرنی ہی ہوگی۔"
وہ درخت کے گرد چکر لگانے لگی، اپنی چالاکی سے ان شاخوں کو دیکھتی رہی جنہیں وہ آسانی سے نیچے لا سکتی تھی۔ اس نے اپنے پنجے درخت کی نرم شاخوں میں گھسا دیے اور آہستہ آہستہ انہیں نیچے کی طرف کھینچنے لگی۔
لیکن جیسے ہی شاخیں نیچے آنے لگیں، ان کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی کھلنے لگی۔ درخت کی جڑوں کے قریب، زمین میں چھپے ہوئے کچھ کانٹے دار جھاڑیوں نے اس کے راستے کو مزید مشکل بنا دیا تھا۔ لومڑی نے ایک لمحے کے لیے رُک کر سوچا۔
"یہ تو میں نے نہیں سوچا تھا،" اس نے خود سے کہا۔ "شاید یہ میری زندگی کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔"
لومڑی نے ایک گہری سانس لی اور دوبارہ کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی تمام تر طاقت جمع کی اور ایک بار پھر شاخوں کو نیچے کی طرف کھینچنا شروع کیا۔ مگر اس بار، اس کے دل میں یہ احساس تھا کہ حقیقت کتنی تلخ ہو سکتی ہے۔
"کیا میں واقعی ان انگوروں تک پہنچ پاؤں گی؟" اس نے سوچا۔ "یا یہ محض ایک خواب ہی رہے گا؟"
لومڑی نے اپنی چالاکی، طاقت اور عزم کو اکٹھا کیا اور ایک آخری کوشش کی۔ اس کی آنکھوں میں یقین کی چمک تھی، اور دل میں ایک نئی روشنی۔
لیکن حقیقت کی تلخی نے اس کے دل میں ایک نئی سوچ ڈال دی تھی۔ کیا وہ اپنی کوششوں میں کامیاب ہو پائے گی، یا یہ سفر اس کے لیے ایک نئی آزمائش بن جائے گا؟ یہ سوال اس کے دماغ میں گونجتا رہا، اور وہ جانتی تھی کہ اس کا جواب صرف وقت ہی دے سکتا ہے۔
کیا لومڑی اس تلخ حقیقت کا مقابلہ کر پائے گی، یا یہ اس کے لیے ایک نئی شروعات کا آغاز ہوگا؟ یہ راز ابھی کھلنا باقی تھا، مگر ایک بات طے تھی کہ وہ اپنی جستجو کو کبھی نہیں چھوڑے گی۔
"مجھے اپنی چالاکی کا استعمال کرنا ہوگا،" اس نے خود سے کہا۔ "میں صرف کوشش کرنے سے نہیں رکوں گی، بلکہ اس بار میں کچھ نیا کرنے کی کوشش کروں گی۔"
لومڑی نے درخت کے قریب جا کر اس کی شاخوں کا جائزہ لیا۔ اس نے محسوس کیا کہ درخت کے کچھ حصے نرم اور کمزور ہیں، جہاں وہ اپنی تیز پنجوں کا استعمال کر سکتی ہے۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ کسی طرح ان شاخوں کو نیچے لا سکے تو شاید وہ انگوروں تک پہنچ پائے گی۔
"یہ میرا آخری موقع ہو سکتا ہے،" اس نے خود کو سمجھایا۔ "مگر مجھے کوشش کرنی ہی ہوگی۔"
وہ درخت کے گرد چکر لگانے لگی، اپنی چالاکی سے ان شاخوں کو دیکھتی رہی جنہیں وہ آسانی سے نیچے لا سکتی تھی۔ اس نے اپنے پنجے درخت کی نرم شاخوں میں گھسا دیے اور آہستہ آہستہ انہیں نیچے کی طرف کھینچنے لگی۔
لیکن جیسے ہی شاخیں نیچے آنے لگیں، ان کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی کھلنے لگی۔ درخت کی جڑوں کے قریب، زمین میں چھپے ہوئے کچھ کانٹے دار جھاڑیوں نے اس کے راستے کو مزید مشکل بنا دیا تھا۔ لومڑی نے ایک لمحے کے لیے رُک کر سوچا۔
"یہ تو میں نے نہیں سوچا تھا،" اس نے خود سے کہا۔ "شاید یہ میری زندگی کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔"
لومڑی نے ایک گہری سانس لی اور دوبارہ کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی تمام تر طاقت جمع کی اور ایک بار پھر شاخوں کو نیچے کی طرف کھینچنا شروع کیا۔ مگر اس بار، اس کے دل میں یہ احساس تھا کہ حقیقت کتنی تلخ ہو سکتی ہے۔
"کیا میں واقعی ان انگوروں تک پہنچ پاؤں گی؟" اس نے سوچا۔ "یا یہ محض ایک خواب ہی رہے گا؟"
لومڑی نے اپنی چالاکی، طاقت اور عزم کو اکٹھا کیا اور ایک آخری کوشش کی۔ اس کی آنکھوں میں یقین کی چمک تھی، اور دل میں ایک نئی روشنی۔
لیکن حقیقت کی تلخی نے اس کے دل میں ایک نئی سوچ ڈال دی تھی۔ کیا وہ اپنی کوششوں میں کامیاب ہو پائے گی، یا یہ سفر اس کے لیے ایک نئی آزمائش بن جائے گا؟ یہ سوال اس کے دماغ میں گونجتا رہا، اور وہ جانتی تھی کہ اس کا جواب صرف وقت ہی دے سکتا ہے۔
کیا لومڑی اس تلخ حقیقت کا مقابلہ کر پائے گی، یا یہ اس کے لیے ایک نئی شروعات کا آغاز ہوگا؟ یہ راز ابھی کھلنا باقی تھا، مگر ایک بات طے تھی کہ وہ اپنی جستجو کو کبھی نہیں چھوڑے گی۔
Chapter
05
انگوروں کی حقیقت
لومڑی نے اپنی آنکھوں میں موجود یقین کی چمک کے ساتھ ایک آخری کوشش کی۔ اس کی پھرتی اور چالاکی نے اسے ہمیشہ مشکلات سے نجات دلائی تھی، مگر اس بار انگور اس کی پہنچ سے دور محسوس ہو رہے تھے۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اس سفر میں اکیلی نہیں ہے، بلکہ یہ انگور اس کی زندگی میں ایک نئی کہانی کا آغاز کر رہے ہیں۔
چاندنی رات کا سکوت اس کی سانسوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو گیا۔ ہر شاخ کے نیچے دباؤ ڈالنا، ہر پتہ ہلانا، ہر باریک سی آواز سننا، یہ سب اس کی کوششوں کا حصہ تھا۔ مگر جب وہ شاخیں نیچے کھینچنے میں ناکام رہی، تو اس کے دل میں ایک شک پیدا ہو گیا۔
"کیا میں واقعی ان انگوروں تک پہنچ سکتی ہوں؟" اس نے خود سے سرگوشی کی۔ "یا یہ محض ایک خواب ہی رہے گا؟"
لومڑی کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے مایوسی کی جھلک دکھائی دی، مگر پھر اس نے اپنے دل میں امید کی چنگاری کو روشن کیا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ سفر اس کے لیے آسان نہیں ہوگا، مگر ہار ماننے کا مطلب تھا کہ وہ اپنی چالاکی اور عزم کو ضائع کر دے گی۔
وہ درخت کے نیچے بیٹھ گئی اور اس نے سوچنا شروع کیا۔ "کیا یہ انگور واقعی اتنے قیمتی ہیں جتنا میں انہیں سمجھتی ہوں؟ یا یہ محض ایک خواہش ہے جو میری حقیقت سے دور ہے؟"
اسی دوران، ہوا میں ایک ہلکی سی خوشبو آئی، جو انگوروں کی مٹھاس کا پتہ دے رہی تھی۔ یہ خوشبو اس کے دل میں ایک نئی خواہش جگا رہی تھی، اور اس نے دوبارہ کوشش کرنے کا ارادہ کیا۔ اس نے اپنی دماغی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے ایک نئی حکمت عملی تیار کی۔
"شاید مجھے کچھ اور کرنا پڑے گا۔" اس نے دل میں سوچا۔ "شاید مجھے اپنی حدود کو توڑنا پڑے گا۔"
اس نے اپنے ارد گرد کا جائزہ لیا، اور اس بار اس کی نظر درخت کے ایک اونچے حصے پر پڑی جہاں کچھ انوکھے پرندے بیٹھے تھے۔ ان پرندوں کے پاس ایک خاص قسم کی چمک تھی، جو لومڑی کو حیران کر رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ان کے پاس کچھ خاص ہے، کچھ ایسا جو اس کے سفر میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
لومڑی نے پرندوں کی طرف دیکھا اور سوچا کہ اگر وہ ان سے بات کر سکے تو شاید وہ اس کے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے اسے اپنی چالاکی کو ایک نئی سطح پر لے جانا ہوگا۔
"مجھے ان پرندوں کے ساتھ دوستی کرنی ہوگی،" اس نے فیصلہ کیا۔ "اور شاید وہ مجھے ان انگوروں تک پہنچنے میں مدد کر سکیں۔"
یہ سوچ کر اس نے اپنے دل میں امید کی ایک نئی کرن جگا لی، اور اس نے پرندوں کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک نئی چمک تھی، اور دل میں ایک نئی جستجو۔ یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا تھا، بلکہ یہ ایک نئی شروعات کا آغاز تھا۔
کیا لومڑی ان پرندوں کی مدد سے اپنی منزل تک پہنچ سکے گی؟ یا یہ سفر اس کے لیے ایک نئی آزمائش بن جائے گا؟ یہ راز ابھی کھلنا باقی تھا، اور یہ کہانی ابھی جاری تھی۔
چاندنی رات کا سکوت اس کی سانسوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو گیا۔ ہر شاخ کے نیچے دباؤ ڈالنا، ہر پتہ ہلانا، ہر باریک سی آواز سننا، یہ سب اس کی کوششوں کا حصہ تھا۔ مگر جب وہ شاخیں نیچے کھینچنے میں ناکام رہی، تو اس کے دل میں ایک شک پیدا ہو گیا۔
"کیا میں واقعی ان انگوروں تک پہنچ سکتی ہوں؟" اس نے خود سے سرگوشی کی۔ "یا یہ محض ایک خواب ہی رہے گا؟"
لومڑی کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے مایوسی کی جھلک دکھائی دی، مگر پھر اس نے اپنے دل میں امید کی چنگاری کو روشن کیا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ سفر اس کے لیے آسان نہیں ہوگا، مگر ہار ماننے کا مطلب تھا کہ وہ اپنی چالاکی اور عزم کو ضائع کر دے گی۔
وہ درخت کے نیچے بیٹھ گئی اور اس نے سوچنا شروع کیا۔ "کیا یہ انگور واقعی اتنے قیمتی ہیں جتنا میں انہیں سمجھتی ہوں؟ یا یہ محض ایک خواہش ہے جو میری حقیقت سے دور ہے؟"
اسی دوران، ہوا میں ایک ہلکی سی خوشبو آئی، جو انگوروں کی مٹھاس کا پتہ دے رہی تھی۔ یہ خوشبو اس کے دل میں ایک نئی خواہش جگا رہی تھی، اور اس نے دوبارہ کوشش کرنے کا ارادہ کیا۔ اس نے اپنی دماغی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے ایک نئی حکمت عملی تیار کی۔
"شاید مجھے کچھ اور کرنا پڑے گا۔" اس نے دل میں سوچا۔ "شاید مجھے اپنی حدود کو توڑنا پڑے گا۔"
اس نے اپنے ارد گرد کا جائزہ لیا، اور اس بار اس کی نظر درخت کے ایک اونچے حصے پر پڑی جہاں کچھ انوکھے پرندے بیٹھے تھے۔ ان پرندوں کے پاس ایک خاص قسم کی چمک تھی، جو لومڑی کو حیران کر رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ان کے پاس کچھ خاص ہے، کچھ ایسا جو اس کے سفر میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
لومڑی نے پرندوں کی طرف دیکھا اور سوچا کہ اگر وہ ان سے بات کر سکے تو شاید وہ اس کے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے اسے اپنی چالاکی کو ایک نئی سطح پر لے جانا ہوگا۔
"مجھے ان پرندوں کے ساتھ دوستی کرنی ہوگی،" اس نے فیصلہ کیا۔ "اور شاید وہ مجھے ان انگوروں تک پہنچنے میں مدد کر سکیں۔"
یہ سوچ کر اس نے اپنے دل میں امید کی ایک نئی کرن جگا لی، اور اس نے پرندوں کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک نئی چمک تھی، اور دل میں ایک نئی جستجو۔ یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا تھا، بلکہ یہ ایک نئی شروعات کا آغاز تھا۔
کیا لومڑی ان پرندوں کی مدد سے اپنی منزل تک پہنچ سکے گی؟ یا یہ سفر اس کے لیے ایک نئی آزمائش بن جائے گا؟ یہ راز ابھی کھلنا باقی تھا، اور یہ کہانی ابھی جاری تھی۔
Cast of Characters
Fox
ProtagonistFox and graps
ProtagonistReader Comments
9 readers
Sign in or create an account to leave a comment.
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
The End
fox and the graps
by Anas Sarwar
0 words · 5 chapters · 2 characters
Made with StoryMaker