Chachu shakor or digital rasta
by
Asia Rahim
چچو شکور کو اپنی بھانجے کی شرارتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ خود کو ایک دلچسپ ڈیجیٹل دنیا میں پاتا ہے، جہاں راستہ بھول جانا معمولی بات نہیں، بلکہ ہنسی خوشی سفر کا حصہ ہے۔
Contents
10 words · 3 chapters · 1 characters
Chapter
01
چچو شکور کی نئی مہم
Chapter 1 · Scene 1
چچو شکور ایک بڑے مزے دار انسان ہیں۔ ان کے پاس ہمیشہ کہانیوں کا خزانہ ہوتا ہے، جو وہ اپنے بھانجے بھتیجوں کو سناتے ہیں۔ ایک دن، چچو شکور اپنے بھانجے علی کے ساتھ بیٹھے تھے جب علی نے اپنے ٹیبلٹ پر ایک نئی ایپلی کیشن دکھائی۔ "چچو، یہ دیکھو! یہ ایپلی کیشن ہمیں ایک ڈیجیٹل دنیا میں لے جاتی ہے!" علی نے جوش سے کہا۔ چچو شکور نے اپنی عینک کو ناک پر تھوڑا اوپر کیا اور ٹیبلٹ کو غور سے دیکھا۔ "ہائے ہائے، یہ تو بہت دلچسپ لگ رہا ہے!" انہوں نے کہا۔
Chapter 1 · Scene 2
علی نے ایپلی کیشن کو کھولا اور چچو شکور کو ساتھ لے کر ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہو گئے۔ وہاں ہر چیز رنگین اور چمکدار تھی۔ بادلوں پر بنا ہوا ایک پل، قوس قزح کے رنگوں کا جادوی جنگل، اور ایک ہنستی کھیلتی نہر۔ "واہ، یہ تو واقعی جادوئی ہے!" چچو شکور نے حیرانی سے کہا۔ "یہاں تو ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے!" علی نے کہا، "چچو، یہاں راستہ بھول جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ ہم یہاں پر ہر جگہ گھوم سکتے ہیں!"
Chapter 1 · Scene 3
چچو شکور نے ایک نظر علی پر ڈالی اور مسکراتے ہوئے کہا، "ٹھیک ہے، پھر چلو چلتے ہیں ایک نئے مہم پر!" دونوں نے مل کر ایک راستے پر قدم رکھا جو چمکدار پتھروں سے بنا ہوا تھا۔ راستہ بہت دلچسپ تھا، ہر موڑ پر نئی چیزیں دیکھنے کو ملتی تھیں۔ کبھی کوئی دیو قامت تتلی، تو کبھی ایک چھوٹا سا پرندہ جو گیت گا رہا تھا۔ چند قدم چلنے کے بعد علی نے کہا، "چچو، ہمیں یہاں سے بائیں مڑنا چاہیے۔"
Chapter 1 · Scene 4
چچو شکور نے ہنستے ہوئے کہا، "علی، کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ ہر راستہ ایک کہانی سناتا ہے؟" علی نے حیرت سے پوچھا، "کیسی کہانی، چچو؟" چچو شکور نے کہا، "جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے ہیں، ہمیں راستے کی کہانی معلوم ہوتی ہے۔ کہیں کوئی راز چھپا ہوتا ہے، تو کہیں کوئی نئی مہم۔" اسی دوران، وہ ایک بڑی دیوار کے سامنے پہنچ گئے جس پر لکھا تھا: "یہاں سے آگے جانے کے لئے ہنسنا ضروری ہے۔"
Chapter 1 · Scene 5
علی نے کہا، "چچو، یہ تو آسان ہے۔ مجھے ایک لطیفہ یاد آیا!" چچو شکور نے کہا، "سناؤ، سناؤ!" علی نے ہنستے ہوئے کہا، "ایک چڑی نے دوسرے چڑی سے کہا، 'کیا تمہیں پتہ ہے، ہم پرندے ہیں؟' دوسرے چڑی نے کہا، 'ہاں، پر ہم اڑ نہیں سکتے!'" چچو شکور نے زور سے ہنستے ہوئے کہا، "واہ، یہ تو بڑا مزے دار تھا!" جیسے ہی وہ ہنسے، دیوار کھل گئی اور ایک نیا راستہ ان کے سامنے آ گیا۔ "چلو، چلو، دیکھتے ہیں آگے کیا ہے!" علی نے خوشی سے کہا۔ چچو شکور نے کہا، "یہ تو واقعی ایک دلچسپ مہم ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ابھی بہت کچھ دیکھنا ہے!" دیوار کے پیچھے کیا راز چھپا ہے؟ کیا چچو شکور اور علی کو کوئی نیا دوست ملے گا؟ جاننے کے لئے آگے بڑھو!
Chapter
02
ڈیجیٹل دنیا کی خوش مزاجیاں
چچو شکور نے مسکراتے ہوئے کہا، "ہاں، علی، یہ واقعی بہت مزے دار جگہ ہے۔ دیکھو، وہاں ایک رینبو سڑک ہے!"
علی نے جوش سے کہا، "چچو، آئیے ہم اس رینبو سڑک پر چلیں۔ شاید ہمیں کوئی نیا دوست مل جائے!"
جب وہ رینبو سڑک پر چلنے لگے تو علی نے ایک ننھے روبوٹ کو دیکھا جو اپنے چھوٹے چھوٹے پہیوں پر چل رہا تھا۔ اس کا نام بوبو تھا۔ بوبو نے اپنی چمکدار آنکھوں سے ان کی طرف دیکھا اور کہا، "ہیلو، دوستو! میں بوبو ہوں۔ کیا تم میری مدد کر سکتے ہو؟"
چچو شکور نے کہا، "کیسی مدد، پیارے بوبو؟"
بوبو نے کہا، "میری بیٹری کمزور ہو گئی ہے اور مجھے اپنے گھر واپس جانا ہے۔ لیکن راستے میں کچھ ہنسی کے پل ہیں جنہیں پار کرنے کے لئے ہنسنا ضروری ہے۔"
علی نے خوشی سے کہا، "چچو، یہ تو ہمارے لئے آسان ہے۔ ہم بوبو کی مدد کریں گے!"
چچو شکور نے کہا، "ہاں، علی، ہم ضرور بوبو کی مدد کریں گے۔"
پہلا ہنسی کا پل ان کے سامنے آیا۔ پل پر لکھا تھا: "ہنسی کے بغیر یہاں سے گزرنا ناممکن ہے۔"
علی نے ایک اور لطیفہ سناتے ہوئے کہا، "چچو، سنو! ایک بلی نے دوسرے بلی سے کہا، 'کیوں تم نے دودھ نہیں پیا؟' دوسرے بلی نے کہا، 'کیونکہ دودھ کا باؤل خالی تھا!'"
چچو شکور اور بوبو دونوں نے زور سے ہنسا۔ جیسے ہی وہ ہنسے، پل کھل گیا اور وہ سب اس کے پار ہو گئے۔
بوبو نے خوشی سے کہا، "شکریہ، دوستو! اب ہمیں اگلے پل تک چلنا ہے۔"
جیسے ہی وہ آگے بڑھے، علی نے پوچھا، "چچو، کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہر پل پر ہمیں ہنسی کی ضرورت پڑے گی؟"
چچو شکور نے مسکراتے ہوئے کہا، "ہاں، علی، لگتا تو ایسا ہی ہے۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ ہنسی ہمیں ہر مشکل راستے پر آگے بڑھنے کی طاقت دیتی ہے۔"
ابھی وہ باتیں ہی کر رہے تھے کہ سامنے ایک اور پل آ گیا جو پہلے سے بھی زیادہ دلچسپ لگ رہا تھا۔ پل کے اوپر لکھا تھا: "یہاں ہنسی کی کچھ خاص ضرورت ہے!"
علی نے پرجوش ہو کر کہا، "چلو چچو، دیکھتے ہیں کہ یہ پل ہمیں کیا نیا تجربہ دیتا ہے!"
آگے کیا ہوگا؟ کیا علی اور چچو شکور بوبو کو اس کے گھر پہنچا سکیں گے؟ اور کیا اس نئی دنیا میں ان کا کوئی اور دوست بنے گا؟ جاننے کے لئے اگلے باب کا انتظار کریں!
Chapter
03
ختم نہیں، ابھی جاری ہے!
چچو شکور نے مسکراتے ہوئے کہا، "لگتا ہے اس پل پر ہنسنے کی کچھ خاص ضرورت ہے۔"
علی نے بوبو کی طرف دیکھا، "بوبو، تمہیں کوئی مزاحیہ کہانی آتی ہے؟"
بوبو نے اپنی ننھی سی ناک سکیڑتے ہوئے کہا، "ایک کہانی تو ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک خرگوش اور کچھوا نے دوڑ لگانے کا فیصلہ کیا۔ خرگوش نے کہا، 'میں تو سونے جا رہا ہوں، تم آرام سے چلتے رہو۔' اور جب وہ جاگا تو کچھوا جیت چکا تھا!"
چچو شکور اور علی نے قہقہہ لگایا، "یہ تو کلاسک کہانی ہے، لیکن اب ہمیں کچھ نیا سننا پڑے گا!"
اسی دوران، پل پر موجود ایک چھوٹے سے درخت نے ہلکی سی حرکت کی اور بولا، "اگر تم ہنسنے میں مدد چاہتے ہو تو میری ٹہنی کو کھینچو۔"
علی نے حیرانی سے درخت کی طرف دیکھا، "کیا یہ واقعی بول رہا ہے؟"
چچو شکور نے ہنستے ہوئے کہا، "یہ ڈیجیٹل دنیا ہے، یہاں سب کچھ ممکن ہے!"
علی نے درخت کی ٹہنی کو آہستگی سے کھینچا۔ درخت نے ہلکی سی چھینک ماری اور اس کے پتوں سے رنگ برنگی پتیوں کی بارش ہونے لگی۔ ہر پتی پر ایک مزاحیہ جملہ لکھا ہوا تھا۔ "جب میں بڑا ہوں گا تو مجھے اُڑنا سیکھنا ہے!" ایک پتی پر لکھا تھا۔
بوبو نے زور سے ہنستے ہوئے کہا، "پتہ نہیں یہ کس نے لکھا، لیکن یہ تو بہت مزاحیہ ہے!"
چچو شکور نے کہا، "لگتا ہے کہ یہ پل ہمیں ہنسی کی طاقت سکھا رہا ہے۔"
جیسے ہی وہ پل کے درمیان پہنچے، پل کے دوسری طرف ایک چھوٹا سا دروازہ نظر آیا جس پر لکھا تھا، "ختم نہیں، ابھی جاری ہے!"
علی نے دروازے کی طرف اشارہ کیا، "چچو، لگتا ہے یہ ہمیں کسی اور دلچسپ جگہ لے جا رہا ہے۔"
چچو شکور نے کہا، "چلو، دیکھتے ہیں کہ اس دروازے کے پار کیا ہے۔ شاید وہاں ہمیں بوبو کے گھر کا راستہ مل جائے۔"
بوبو نے خوشی سے کہا، "آئیے، دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہے!"
دروازے کے پار جاتے ہی وہ ایک نئی، رنگین دنیا میں پہنچ گئے۔ وہاں ہر چیز چمک رہی تھی اور ہر طرف سے ہنسی کی آوازیں آ رہی تھیں۔
کیا اس نئی دنیا میں ان کا کوئی اور دوست بنے گا؟ یا انہیں بوبو کے گھر کا راستہ مل جائے گا؟ جاننے کے لئے اگلے باب کا انتظار کریں!
Cast of Characters
Chachu shakor
ProtagonistChacha shakor
Reader Comments
6 readers
Sign in or create an account to leave a comment.
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
The End
Chachu shakor or digital rasta
by Asia Rahim
10 words · 3 chapters · 1 characters