Cats story

Cats story

by

Abdul Majid

Comedy Kids

کتابوں کی دنیا میں کھویا ہوا زایان، ایک روز لائبریری میں عنایہ سے ملتا ہے۔ دونوں کا تعلق خاموشی اور محبت کے ذریعے مضبوط ہوتا جاتا ہے، اور ان کی کہانی دلچسپ موڑ لیتی ہے جب زایان کی چھپی ہوئی بلیوں کی ڈ...

Chapter

01

لائبریری کی پہلی ملاقات

Chapter 1, Scene 1

Chapter 1 · Scene 1

لائبریری میں ایک خاموش دوپہر تھی۔ کتابوں کی اونچی اونچی الماریوں کے درمیان زایان اپنی پسندیدہ کتاب تلاش کر رہا تھا۔ زایان کو کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا اور وہ لائبریری میں اکثر آیا کرتا تھا۔ آج بھی وہ اپنے خیالات کی دنیا میں کھویا ہوا تھا۔

Chapter 1, Scene 2

Chapter 1 · Scene 2

عینک پہنے عنایہ، جو لائبریری کی نئی رکن تھی، کتابوں کی ترتیب درست کر رہی تھی۔ جب زایان نے ایک الماری کے پیچھے چھپی ہوئی ایک پرانی کتاب دیکھی تو وہ خوشی سے چمک اٹھا۔ "یہ تو وہی کتاب ہے جس کی مجھے تلاش تھی!" زایان نے خود سے کہا۔

Chapter 1, Scene 3

Chapter 1 · Scene 3

عنایہ نے یہ سن کر مسکراتے ہوئے زایان کی طرف دیکھا۔ "کیا تمہیں کتابیں پسند ہیں؟" عنایہ نے پوچھا۔ زایان نے جواب دیا، "ہاں، مجھے کتابوں کا بہت شوق ہے۔ ہر کتاب ایک نئی دنیا کی طرح ہوتی ہے۔" عنایہ نے کہا، "یہ تو بہت اچھا ہے! میں نے بھی حال ہی میں یہاں کام شروع کیا ہے اور ہر روز کچھ نیا سیکھتی ہوں۔" زایان نے خوش دلی سے کہا، "مجھے خوشی ہے کہ تم یہاں ہو۔ شاید ہم ایک دوسرے کو دلچسپ کتابیں تجویز کر سکیں۔" عنایہ نے سر ہلایا، "یہ تو بہت اچھا ہوگا۔"

Chapter 1, Scene 4

Chapter 1 · Scene 4

اسی دوران زایان کی کتابوں کے درمیان چھپی ہوئی بلیوں کی ایک ڈرائنگ عنایہ کی نظر میں آئی۔ "یہ کیا ہے؟" عنایہ نے حیرانی سے پوچھا۔ زایان نے شرماتے ہوئے کہا، "اوہ، یہ میری ڈرائنگ ہے۔ میں بلیوں کی تصویریں بناتا ہوں۔" عنایہ نے ہنستے ہوئے کہا، "یہ تو بہت پیاری ہیں! تمہیں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرنا چاہیے۔" زایان نے جواب دیا، "شکریہ عنایہ، میں کوشش کروں گا۔"

Chapter 1, Scene 5

Chapter 1 · Scene 5

لائبریری کی خاموشی میں دونوں کی بات چیت جاری رہی اور زایان کو احساس ہوا کہ عنایہ کے ساتھ وقت گزارنا کتنا خوشگوار ہوتا ہے۔ ان کی دوستی کی شروعات ہو چکی تھی اور دونوں کے دلوں میں خوشی کی لہر دوڑ رہی تھی۔ زایان نے دل میں سوچا کہ شاید عنایہ کے ساتھ اس لائبریری میں اور بھی کئی راز چھپے ہوں گے، اور اس کا دل مزید جاننے کے لیے بے قرار تھا۔ کیا زایان اور عنایہ کی دوستی انہیں لائبریری کے مزید رازوں کی طرف لے جائے گی؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں کہانی کو آگے بڑھانا ہوگا۔

Chapter

02

چھپی ہوئی بلیوں کی دنیا

Chapter 2, Scene 1

Chapter 2 · Scene 1

لائبریری میں وقت جیسے پر لگا کر اُڑ رہا تھا۔ زایان اور عنایہ اپنی پسندیدہ کتابوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے دن کا لطف لے رہے تھے۔ زایان کی ڈرائنگز نے عنایہ کی دلچسپی بڑھا دی تھی، اور وہ بلیوں کی تصویروں کے بارے میں مزید جاننا چاہتی تھی۔

Chapter 2, Scene 2

Chapter 2 · Scene 2

"زایان، یہ بلیاں ایسی کیوں لگتی ہیں جیسے وہ کسی اور دنیا کی ہوں؟" عنایہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ زایان نے جھجھکتے ہوئے کہا، "کیونکہ یہ واقعی ایک اور دنیا کی بلیاں ہیں۔ میں نے ان کی ایک پوری دنیا بنائی ہے، جہاں بلیاں بول سکتی ہیں اور عجیب و غریب جگہوں پر جاتی ہیں۔" عنایہ کی آنکھوں میں حیرت چمک اٹھی۔ "کیا واقعی؟! مجھے وہ دنیا دیکھنی ہے!" عنایہ نے پرجوش ہو کر کہا.

Chapter 2, Scene 3

Chapter 2 · Scene 3

زایان نے اپنی ڈرائنگز کا پیکٹ کھولا اور ایک بڑی سی تصویر نکالی۔ "یہ ہے بلیوں کی دنیا کا نقشہ۔" عنایہ نے نقشہ کو غور سے دیکھا۔ "یہ تو جادوئی لگ رہا ہے! یہ سب کہاں سے سیکھا؟" زایان نے ہنستے ہوئے کہا، "یہ سب میری تخیل کی کرامت ہے۔ میں نے کتابوں سے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔" عنایہ نے نقشے کو دیکھتے ہوئے کہا، "کیا ہم ان بلیوں کے بارے میں ایک کہانی بنا سکتے ہیں؟" زایان نے جوش سے کہا، "کیوں نہیں! ہم دونوں مل کر بلیوں کی دنیا کی کہانی لکھیں گے۔"

Chapter 2, Scene 4

Chapter 2 · Scene 4

دونوں نے مل کر کہانی کا آغاز کیا۔ زایان نے بلیوں کے کرداروں کو تخلیق کیا اور عنایہ نے ان کی مہمات کے بارے میں لکھنا شروع کیا۔ دونوں کی مشترکہ تخلیق نے انہیں خوشی سے بھر دیا. "یہ تو بہت مزہ آ رہا ہے!" عنایہ نے خوشی سے کہا. "ہاں، اور میں سوچ رہا ہوں کہ شاید یہ بلیاں ہماری بھی مدد کر سکتی ہیں۔" زایان نے مسکراتے ہوئے کہا.

Chapter 2, Scene 5

Chapter 2 · Scene 5

"کیسے؟" عنایہ نے حیرانی سے پوچھا. زایان نے سرگوشی میں کہا، "شاید یہ بلیاں ہمیں لائبریری کے چھپے ہوئے رازوں تک لے جائیں۔" عنایہ نے آنکھیں چمکاتے ہوئے کہا، "یہ تو اور بھی دلچسپ ہوگا!" دونوں نے مل کر کہانی کو آگے بڑھانے کا ارادہ کیا۔ لیکن ابھی تک بلیوں کی دنیا کے راز ان کے سامنے نہیں آئے تھے۔ کیا بلیوں کی دنیا واقعی میں کوئی راز چھپائے بیٹھی ہے؟ کیا عنایہ اور زایان اس دنیا کی مدد سے لائبریری کے مزید راز جان سکیں گے؟ یہ سب جاننے کے لیے ہمیں کہانی کو آگے بڑھانا ہوگا.

Chapter

03

مسٹر وسکرز کی شرارت

Chapter 3, Scene 1

Chapter 3 · Scene 1

مسٹر وسکرز لائبریری کے ایک کونے میں بیٹھے اپنی بڑی بڑی مونچھیں سنوارتے تھے۔ ان کا چہرہ ہمیشہ شرارتوں سے بھرا ہوتا تھا۔ زایان اور عنایہ نے جب پہلی بار مسٹر وسکرز کو دیکھا تو وہ فوراً سمجھ گئے کہ یہ بلی کوئی عام بلی نہیں تھی۔ زایان نے عنایہ سے کہا، "دیکھو، یہ بلی ضرور کچھ نہ کچھ شرارت کرنے والی ہے۔" عنایہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا، "ہاں، اور شاید یہ ہمیں لائبریری کے راز بھی بتا دے۔"

Chapter 3, Scene 2

Chapter 3 · Scene 2

اسی دوران، مسٹر وسکرز نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے دونوں کو دیکھا اور پھر اچانک اچھل کر ایک کتاب کے ڈھیر پر جا بیٹھا۔ کتابیں ادھر ادھر بکھر گئیں اور زایان اور عنایہ کی ہنسی چھوٹ گئی. "مسٹر وسکرز، کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ لائبریری کے کون سے راز چھپے ہوئے ہیں؟" عنایہ نے شرارت سے پوچھا. مسٹر وسکرز نے اپنی دم ہلائی اور ایک مخصوص کتاب کی طرف اشارہ کیا۔ زایان نے کتاب اٹھائی تو دیکھا کہ یہ ایک پرانی کہانیوں کی کتاب تھی. "یہ تو بہت پرانی لگ رہی ہے۔" زایان نے کہا. عنایہ نے کتاب کو کھولا اور دیکھا کہ اس میں بلیوں کی کہانیاں موجود تھیں۔ "یہ تو بہت دلچسپ ہے! شاید ان کہانیوں میں واقعی کوئی راز چھپا ہو۔"

Chapter 3, Scene 3

Chapter 3 · Scene 3

مسٹر وسکرز نے پھر اپنی مونچھوں کو سنوارتے ہوئے ایک اور کونے کی طرف اشارہ کیا جہاں ایک چھوٹا سا دروازہ تھا۔ زایان اور عنایہ نے دروازے کی طرف بڑھ کر دیکھا کہ اندر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا. کمرے میں داخل ہوتے ہی انہیں دیواروں پر بلیوں کی پرانی تصویریں نظر آئیں۔ ہر تصویر کے نیچے کچھ لکھا ہوا تھا. "یہ تو بلیوں کی تاریخ لگ رہی ہے۔" زایان نے کہا. عنایہ نے ایک تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "دیکھو، یہ تو مسٹر وسکرز کی تصویر لگتی ہے!" مسٹر وسکرز نے اپنی آنکھوں کو چمکاتے ہوئے کہا، "میاؤ!" اور پھر ہنسی کے ساتھ لائبریری کے اندر گھومنے لگا. زایان اور عنایہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ہنسے، "یہ بلی واقعی بہت خاص ہے!" اب سوال یہ تھا کہ کیا زایان اور عنایہ ان تصویروں کے ذریعے لائبریری کے باقی رازوں تک پہنچ سکیں گے؟ کیا مسٹر وسکرز ان کی مزید مدد کریں گے؟ یہ سب جاننے کے لیے کہانی کو آگے بڑھانا ہوگا.

Chapter

04

شاعری کا راز

Chapter 4, Scene 1

Chapter 4 · Scene 1

زایان اور عنایہ نے چھوٹے کمرے میں مزید آگے بڑھنا شروع کیا۔ دیواروں پر جلی ہوئی بلیوں کی پرانی تصویریں ان کی توجہ کو کھینچ رہی تھیں۔ ہر تصویر کے نیچے موٹے حروف میں کچھ لکھا ہوا تھا۔ زایان نے قریب ہوکر پڑھنے کی کوشش کی، "یہ کیا لکھا ہے؟" عنایہ نے قریب آ کر دیکھا، "یہ تو بلیوں کے مشہور شعر ہیں! شاید ان میں ہی کوئی راز چھپا ہو۔" مسٹر وسکرز نے اپنی دم کو ہلکا سا ہلاتے ہوئے ایک تصویر کی طرف اشارہ کیا جہاں ایک بلی اپنی چھوٹی سی کتاب کو تھامے بیٹھی تھی۔ زایان نے تصویر کے نیچے لکھا شعر بلند آواز میں پڑھا: "بلی کی دم سے کہانی شروع، ہر موڑ پر نیا سبق ملے۔" عنایہ نے ہنستے ہوئے کہا، "یہ تو بہت مزے کا شعر ہے! شاید اس سے ہمیں کچھ اشارہ ملے۔"

Chapter 4, Scene 2

Chapter 4 · Scene 2

زایان نے سوچتے ہوئے کہا، "ہاں، شاید ہمیں ان شعروں کو ترتیب سے پڑھنا ہوگا تاکہ ہم لائبریری کا راز جان سکیں۔" وہ دونوں تصویروں کے نیچے لکھے ہوئے شعروں کو ترتیب سے پڑھنے لگے۔ ہر شعر میں بلیوں کی کہانیوں کا ایک نیا پہلو ظاہر ہوتا جا رہا تھا۔ ایک شعر میں لکھا تھا: "کتابوں کی دنیا میں جو گم ہو، لبوں پر مسکراہٹ اس کی ہو۔" عنایہ نے خوشی سے کہا، "لگتا ہے یہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ خوشی اور مسکراہٹوں کا راز کتابوں میں چھپا ہے۔"

Chapter 4, Scene 3

Chapter 4 · Scene 3

مسٹر وسکرز نے اپنی مونچھوں کو سنوارتے ہوئے پھر ایک اور کونے کی طرف اشارہ کیا جہاں ایک اور چھوٹا سا دروازہ تھا۔ زایان اور عنایہ نے اس دروازے کو کھولا تو ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں۔ اندر ایک چھوٹی سی میز پر کئی رنگین کتابیں موجود تھیں۔ ہر کتاب کے اوپر ایک بلی کی تصویر بنی ہوئی تھی اور ہر بلی کے پیچھے کچھ شاعری لکھی ہوئی تھی۔ زایان نے ایک کتاب کو اٹھایا اور پڑھا، "یہاں ہر بلی کی اپنی کہانی ہے، اپنی شاعری ہے!" عنایہ نے کہا، "یہ تو زبردست ہے! ہمیں ہر بلی کی کہانی پڑھنی ہوگی تاکہ ہم اس لائبریری کا سارا راز جان سکیں۔" زایان نے مسکراتے ہوئے کہا، "لگتا ہے ہمیں مسٹر وسکرز کی مدد سے یہ سب سمجھنا ہوگا۔" مسٹر وسکرز نے اپنی آنکھوں کو چمکاتے ہوئے خوشی سے "میاؤ!" کہا اور پھر لائبریری کی گلیوں میں گھومنے لگا۔

Chapter

05

جادوئی کہانیوں کا خزانہ

Chapter 5, Scene 1

Chapter 5 · Scene 1

زایان اور عنایہ نے پہلی کتاب کو اٹھایا جس پر ایک خوبصورت سفید بلی کی تصویر تھی۔ اس بلی کی آنکھوں میں چمکدار نیلا رنگ تھا جیسے سمندر کی گہرائیوں کا عکس ہو۔ زایان نے کتاب کو کھولا اور پڑھنا شروع کیا: "میں ہوں لوسی، سفید بلی، میری کہانی ہے بہت ہی جلی۔ میرے خوابوں میں ہیں قوس قزح کے رنگ، میری زندگی ہے ایک حسین چنگ۔" عنایہ نے خوشی سے تالی بجائی، "واہ! لوسی کی کہانی بہت مزے کی لگتی ہے۔" مسٹر وسکرز نے اپنی مونچھوں کو سنوارتے ہوئے کہا، "لوسی ایک خاص بلی تھی۔ اس نے ہمیشہ رنگوں کو جمع کیا اور ان سے خواب بنائے۔" زایان نے کہا، "تو کیا ہم بھی لوسی کی طرح کچھ خاص بنا سکتے ہیں؟" مسٹر وسکرز نے ایک دانا مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، "یقیناً، اگر تمہاری آنکھوں میں خواب ہیں اور دل میں رنگ۔"

Chapter 5, Scene 2

Chapter 5 · Scene 2

پھر عنایہ نے دوسری کتاب اٹھائی جس پر ایک بھوری بلی کی تصویر تھی۔ اس بلی کے کان بڑے تھے جیسے وہ ہر بات سن سکتی ہو۔ عنایہ نے پڑھا: "میں ہوں ٹوپی، بھوری بلی، میری باتیں ہیں ہمیشہ ٹھنڈی۔ سنتی ہوں میں سب کی باتیں، پھر بھی رہتی ہوں خاموش راتیں۔" زایان نے مسکراتے ہوئے کہا، "ٹوپی کی کہانی سن کر مجھے لگتا ہے کہ ہمیں سننے کی صلاحیت بڑھانی چاہیے۔" عنایہ نے سر ہلایا، "ہاں، سننا واقعی بہت اہم ہے۔" مسٹر وسکرز نے کہا، "ٹوپی نے ہمیں سکھایا کہ سننا بھی ایک فن ہے۔"

Chapter 5, Scene 3

Chapter 5 · Scene 3

اب زایان اور عنایہ نے تیسری کتاب اٹھائی جس پر ایک نارنجی بلی کی تصویر تھی۔ بلی کے چہرے پر شریر سی مسکراہٹ تھی۔ زایان نے پڑھا: "میں ہوں جیمز، نارنجی بلی، میرے کھیل ہیں بہت ہی زوردار۔ چھپنا، بھاگنا، پکڑنا میرا کام، خوشی سے بھری ہے میری شام۔" عنایہ نے ہنستے ہوئے کہا، "جیمز کی کہانی پڑھ کر تو میرا دل بھی کھیلنے کو چاہتا ہے!" مسٹر وسکرز نے سر ہلایا، "جیمز نے ہمیں سکھایا کہ زندگی کو کھیل کی طرح جینا چاہیے۔" زایان اور عنایہ نے خوش ہو کر کہا، "کتابوں کی یہ دنیا تو واقعی جادوئی ہے!" ابھی وہ مزید کتابیں پڑھنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ مسٹر وسکرز نے کہا، "اب تمہیں لائبریری کا اگلا راز جاننے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔" زایان نے پوچھا، "اگلا راز؟" مسٹر وسکرز نے اپنی آنکھوں میں ایک چمک لاتے ہوئے کہا، "ہاں، ایک ایسا خزانہ جو صرف تم دونوں ہی کھول سکتے ہو۔" عنایہ نے اشتیاق سے کہا، "تو پھر دیر کس بات کی؟ چلو خزانہ ڈھونڈتے ہیں!" زایان نے جوش سے کہا، "ہاں، چلو! یہ تو بہت مزے کا لگتا ہے!" کیا زایان اور عنایہ اس خزانے کو ڈھونڈ پائیں گے؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں اگلے حصے کا انتظار کرنا ہوگا.

Cast of Characters

Alina

Alina

Protagonist
Amir

Amir

Protagonist

Reader Comments

4 readers

Sign in or create an account to leave a comment.

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

The End

Cats story

by Abdul Majid

0 words · 5 chapters · 2 characters

Made with StoryMaker