Ek chhote se gaon mein Ali naam ka mehnati kisan rehta tha. Woh roz subah jaldi uth kar apne khet mein kaam karta aur faslon ka bohat khayal rakhta. Ek din jab woh paani de raha tha
by
Muneeb ur Rehman khan
ایک چھوٹے سے گاؤں میں علی نام کا محنتی کسان رہتا تھا جو اپنی کھیتوں کا بہت خیال رکھتا تھا۔ ایک دن علی کو ایک زخمی کبوتر ملا، جسے وہ اپنے گھر لے آیا اور اس کی دیکھ بھال کی۔
Contents
0 words · 2 chapters · 1 characters
Chapter
01
علی اور زخمی کبوتر
کھیت پہنچ کر علی نے دیکھا کہ سورج کی سنہری کرنیں کھیت کی فصلوں پر پڑ رہی ہیں۔ علی نے اپنے پانی کے کین کو اٹھایا اور فصلوں کو پانی دینا شروع کیا۔ اچانک اس کی نظر ایک زخمی کبوتر پر پڑی جو زمین پر پڑا ہوا تھا۔ کبوتر کے پر ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ اڑنے کے قابل نہیں تھا۔
علی نے کبوتر کو دیکھا اور کہا، "ارے بیچارا کبوتر! تمہیں کیا ہوا ہے؟" علی نے جلدی سے کبوتر کو اٹھایا اور اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ "فکر مت کرو، میں تمہاری مدد کروں گا!" علی نے محبت سے کہا۔
علی کبوتر کو اپنے گھر لے آیا۔ اس نے کبوتر کے زخموں پر نرم کپڑے سے مرہم لگایا۔ علی نے کبوتر کو دانے دیے اور پانی پلایا۔ "اب تم آرام کرو، جلد ہی تم ٹھیک ہو جاؤ گے،" علی نے مسکرا کر کہا۔
چند دن گزر گئے اور علی نے کبوتر کا خوب خیال رکھا۔ ہر صبح علی کبوتر کو دیکھتا اور اس کی حالت میں بہتری دیکھ کر خوشی محسوس کرتا۔ ایک دن، جب علی کبوتر کے پاس گیا تو اس نے دیکھا کہ کبوتر اپنے پر ہلا رہا ہے اور اڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
"واہ! تم تو اب اڑنے کے لیے تیار ہو!" علی نے خوشی سے کہا۔ کبوتر نے اپنے پر پھیلائے اور علی کی طرف خوشی سے دیکھا۔ علی نے کھڑکی کھولی اور کبوتر کو باہر جانے دیا۔ کبوتر نے پر پھیلائے اور ہوا میں اڑ گیا۔
علی نے خوشی سے ہاتھ ہلایا اور کہا، "خدا حافظ دوست، ہمیشہ خوش رہنا!" کبوتر نے ایک خوبصورت چکر لگایا اور آسمان کی طرف اڑ گیا۔
علی کا دل خوشی سے بھر گیا۔ اس نے سوچا کہ دوسروں کی مدد کرنا کتنا اچھا ہوتا ہے۔ وہ واپس کھیت کی طرف چل دیا، لیکن اس کے دل میں ایک خاص خوشی اور سکون تھا۔
اگلے دن علی نے کھیت میں کام کرتے ہوئے محسوس کیا کہ کوئی اس کا شکریہ ادا کر رہا ہے۔ وہ حیران تھا کہ وہ کون ہو سکتا ہے۔ کیا یہ کبوتر واپس آ گیا؟ یا کوئی نئی مہم جوئی اس کا انتظار کر رہی تھی؟
Chapter
02
کبوتر کی صحتیابی اور واپسی
"ارے یہ تو وہی کبوتر ہے!" علی نے حیرانی سے کہا۔ کبوتر نے اپنی سر کو ہلایا جیسے کہ وہ علی کو پہچان رہا ہو۔ وہ اپنی جگہ سے اڑا اور علی کے کندھے پر آ بیٹھا۔ علی نے مسکراتے ہوئے کہا، "تمہیں واپس دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔"
کبوتر نے اپنی چونچ سے علی کے بالوں کو ہلکا سا چھوا جیسے کہ شکریہ ادا کر رہا ہو۔ پھر علی نے دیکھا کہ کبوتر کی چونچ میں ایک چھوٹا سا چمکدار پتھر تھا۔ کبوتر نے پتھر علی کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔
"یہ تمہاری طرف سے تحفہ ہے؟" علی نے حیرت سے پوچھا۔ کبوتر نے اپنی چھوٹی سی آنکھوں کو چمکاتے ہوئے سر کو ہلکی سی جنبش دی۔
علی نے پتھر کو غور سے دیکھا۔ یہ بہت ہی خوبصورت اور چمکدار تھا، جیسے کہ کوئی جادوئی چیز ہو۔ علی نے دل میں سوچا کہ شاید یہ پتھر کسی خاص جگہ کا ہے جہاں سے کبوتر آیا ہے۔
کبوتر نے علی کے گال پر ہلکا سا چوں چوں کیا جیسے کہ وہ کچھ کہنا چاہ رہا ہو۔ علی نے کہا، "کیا تم مجھے اپنی دنیا دکھانا چاہتے ہو؟"
کبوتر نے دوبارہ اپنے پر پھیلائے اور ہوا میں اڑنے لگا۔ علی نے دل میں فیصلہ کیا کہ وہ اس کبوتر کی پیروی کرے گا اور دیکھے گا کہ یہ اسے کہاں لے جاتا ہے۔
علی نے کھیت کی طرف دیکھا اور سوچا، "آج ایک نئی مہم جوئی کا آغاز ہونے والا ہے۔" اس نے جلدی سے اپنی چیزیں سمیٹیں اور کبوتر کی پیروی میں چل پڑا۔
کبوتر نے ایک راستے کی طرف اشارہ کیا جو جنگل کی طرف جا رہا تھا۔ علی نے دل میں عزم کیا کہ وہ اس سفر میں کچھ نیا سیکھے گا اور کچھ دلچسپ دیکھے گا۔
اب سوال یہ تھا کہ اس سفر میں علی کو کیا کچھ دیکھنے کو ملے گا؟ اور کیا یہ پتھر واقعی کوئی جادوئی چیز ثابت ہوگا؟ علی کے ذہن میں کئی سوالات تھے، مگر اس کا دل ایک نئی مہم جوئی کے لیے تیار تھا۔
Cast of Characters
Ali
ProtagonistEk chhote se gaon mein Ali naam ka mehnati kisan rehta tha. Woh roz subah jaldi uth kar apne khet mein kaam karta aur faslon ka bohat khayal rakhta. Ek din jab woh paani de raha tha, us ne dekha ke ek kabootar zameen par zakhmi pada hai. Kabootar ud nahi pa raha tha. Ali ko us par taras aaya. Us ne pyar se kabootar ko uthaya aur ghar le gaya. Ali ne us ke zakhm par marham lagaya, usay daanay aur paani diya. Kuch dinon mein kabootar bilkul theek ho gaya. Jab woh udne laga to Ali ko bohat khushi hui.
Reader Comments
2 readers
Sign in or create an account to leave a comment.
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
The End
Ek chhote se gaon mein Ali naam ka mehnati kisan rehta tha. Woh roz subah jaldi uth kar apne khet mein kaam karta aur faslon ka bohat khayal rakhta. Ek din jab woh paani de raha tha
by Muneeb ur Rehman khan
0 words · 2 chapters · 1 characters