My own business
by
Noora
عائشہ ملک ایک نوجوان لڑکی ہے جو اپنی جادوئی صلاحیتوں کو دریافت کرتی ہے۔ جادوئی دنیا میں داخل ہو کر، وہ دوستی، شناخت اور خود انحصاری کی اہمیت کو سمجھتی ہے۔ اس کے سفر میں کئی مشکلات ہیں، لیکن وہ اپنی طا...
Contents
0 words · 4 chapters · 1 characters
Chapter
01
جادوئی کتاب کی دریافت
Chapter 1 · Scene 1
عائشہ ملک ایک عام سی لڑکی تھی، جو لاہور کے ایک پرانے محلے میں رہتی تھی۔ اس کی زندگی معمولی سی تھی، لیکن اس کے دل میں ہمیشہ کچھ خاص ہونے کی خواہش تھی۔ اسکول کے بعد وہ اکثر اپنی دادی کے کمرے میں جا بیٹھتی، جہاں پرانی کتابوں کی ایک بڑی الماری تھی۔ ان کتابوں میں سے اکثر کی جلدیں پھٹی ہوئی تھیں، اور ان کے صفحات زردی مائل ہو چکے تھے۔
Chapter 1 · Scene 2
ایک دن جب عائشہ دادی کی الماری میں ایک نئی کہانی کی تلاش میں تھی، اس کی نظر ایک عجیب و غریب کتاب پر پڑی۔ کتاب کی جلد پر سنہری حروف میں کچھ لکھا تھا، جو کسی دوسری زبان میں تھا۔ عائشہ نے کتاب کو اٹھایا اور اس کے پہلے صفحے کو کھول دیا۔ ایک دم سے کمرے میں ہوا کا ایک جھونکا آیا، جیسے کوئی ان دیکھی قوت وہاں موجود ہو۔ "یہ کیا ہے؟" عائشہ نے حیران ہو کر خود سے کہا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے کتاب کو مزید کھولا تو اس میں ایک چمکدار روشنی نکلی، جو پورے کمرے میں پھیل گئی۔
Chapter 1 · Scene 3
اسی لمحے، اس کی دادی کمرے میں آئیں۔ "عائشہ! یہ کتاب کہاں سے ملی؟" دادی نے پریشانی سے پوچھا۔ "دادی، یہ الماری میں تھی۔ اس میں کچھ جادوئی ہے، میں نے محسوس کیا!" عائشہ نے جواب دیا۔ دادی نے کتاب کو غور سے دیکھا اور کہا، "یہ کتاب تمہارے دادا کی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ یہ ایک جادوئی کتاب ہے، جو صرف خاص لوگوں کے لیے کھلتی ہے۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ تم اس کی حقیقت کو جان سکو۔"
Chapter 1 · Scene 4
عائشہ نے دادی کی بات کو غور سے سنا، اور اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی آ گئی۔ "کیا اس کا مطلب ہے کہ میں بھی جادوئی ہوں؟" اس نے پوچھا۔ دادی نے مسکرا کر کہا، "شاید۔ لیکن یاد رکھو، جادو کا صحیح استعمال ہی اصل طاقت ہے۔" عائشہ نے کتاب کو دوبارہ کھولا، اور اس بار اس نے ایک نقشہ دیکھا، جو کسی انجان دنیا کا تھا۔ "یہ کہاں کا نقشہ ہے، دادی؟" عائشہ نے پوچھا۔ "یہ ایک جادوئی دنیا کا نقشہ ہے،" دادی نے بتایا۔ "یہ وہ دنیا ہے جہاں تمہیں اپنی صلاحیتوں کو آزمانا ہوگا، اور یہ جاننا ہوگا کہ تم کون ہو اور کیا کر سکتی ہو۔"
Chapter 1 · Scene 5
عائشہ نے نقشے کو غور سے دیکھا۔ اس کے دل میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا ہو چکا تھا۔ "میں تیار ہوں، دادی۔ میں اس جادوئی دنیا میں جانا چاہتی ہوں۔" دادی نے عائشہ کو گلے لگا کر کہا، "یاد رکھو، راستہ آسان نہیں ہوگا، لیکن تمہیں اپنی طاقتوں پر بھروسہ کرنا ہوگا۔" عائشہ نے سر ہلایا اور کتاب کو اپنے ساتھ لے کر کمرے سے باہر نکل گئی۔ اس کا دل نئے تجربات کی خواہش سے بھرا ہوا تھا، اور وہ جانتی تھی کہ یہ سفر اس کی زندگی کو بدل سکتا ہے۔ لیکن عائشہ کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اس جادوئی دنیا میں کیا چیلنجز اس کا انتظار کر رہے ہیں، اور کیسے یہ سفر اس کے اندر چھپی ہوئی قوتوں کو بیدار کرے گا۔ کیا وہ ان چیلنجز کا سامنا کر پائے گی؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
Chapter
02
نئی دنیا کی آزمائشیں
اسی وقت اس کی نظر کتاب کے سرورق پر گئی، جہاں کچھ عجیب و غریب نشانیاں بنی ہوئی تھیں۔ عائشہ نے اپنی انگلیوں کو ان نشانیوں پر گھماتے ہوئے سوچا، "کیا یہ کوئی جادوئی نشانیاں ہیں؟" اچانک، کتاب کی جلد چمکنے لگی اور اس میں سے ہلکی ہلکی روشنی نکلنے لگی۔
عائشہ نے حیرت سے اپنے آپ کو پیچھے کھینچا، لیکن جلد ہی اس کی دلچسپی نے اسے پھر سے قریب کر دیا۔ اس نے کتاب کو دوبارہ کھولا اور ایک حیران کن منظر دیکھا۔ کتاب کے اندر ایک چھوٹی سی جادوئی دنیا تھی، جو پھولوں اور رنگ برنگی روشنیوں سے بھری ہوئی تھی۔ عائشہ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور جیسے ہی اس کی انگلیاں روشنی کو چھونے لگیں، وہ اچانک اس جادوئی دنیا کے اندر تھی۔
یہ دنیا بہت خوبصورت تھی۔ چاروں طرف رنگ برنگے پھول، اونچے اونچے درخت اور نیلا آسمان۔ یہاں کی ہوا میں ایک خاص قسم کی خوشبو تھی، جو عائشہ کو بہت پسند آئی۔
لیکن اسے زیادہ وقت یہ منظر دیکھنے کا نہیں ملا کیونکہ اچانک ہی ایک چھوٹا سا جادوئی جانور اس کے سامنے آ گیا۔ یہ ایک چھوٹا سانپ تھا، جس کے پر تھے اور وہ ہوا میں اڑ رہا تھا۔ "ہیلو!" اس نے خوش دلی سے کہا۔
عائشہ نے حیرت سے پوچھا، "تم کون ہو؟"
"میرا نام زین ہے،" سانپ نے جواب دیا۔ "میں تمہیں اس دنیا میں خوش آمدید کہتا ہوں۔"
"یہ جگہ واقعی حیرت انگیز ہے،" عائشہ نے کہا، "لیکن مجھے نہیں معلوم کہ میں یہاں کیا کرنے آئی ہوں۔"
زین نے مسکرا کر کہا، "تم یہاں اپنی طاقتوں کو آزمانے آئی ہو۔ یہاں کی ہر چیز تمہیں کچھ نیا سکھائے گی، اگر تم دل سے سنو۔"
عائشہ نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر خود سے عہد کر لیا کہ وہ یہاں اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پوری کوشش کرے گی۔
زین نے کہا، "لیکن یاد رکھو، یہاں کی ہر چیز اتنی آسان نہیں ہے جتنی نظر آتی ہے۔ تمہیں کچھ آزمائشوں کا سامنا کرنا ہوگا۔"
عائشہ نے سر ہلایا، "میں تیار ہوں۔ مجھے دکھاؤ کہ مجھے کہاں جانا ہے۔"
زین نے اسے ایک راستے کی طرف اشارہ کیا جو ایک جنگل میں جاتا تھا۔ "یہاں سے تمہارا سفر شروع ہوتا ہے۔"
عائشہ نے گہری سانس لی اور راستے پر چلنے لگی۔ اس کا دل دھڑک رہا تھا، لیکن وہ پرامید تھی کہ اس سفر میں وہ اپنی طاقتوں کو پہچان سکے گی۔
جنگل میں داخل ہوتے ہی، اسے مختلف آوازیں سنائی دینے لگیں۔ کچھ آوازیں دوستانہ تھیں، لیکن کچھ میں خطرے کا احساس تھا۔ عائشہ نے خود کو مضبوط بنایا اور ان آوازوں کی طرف بڑھنے لگی، یہ جانتے ہوئے کہ یہ سفر آسان نہیں ہوگا، لیکن اس کے لیے بہت کچھ سیکھنے کو ہے۔
اور اسی لمحے، ایک بھاری آواز نے اس کا راستہ روکا۔ "تم یہاں کیوں آئی ہو؟" آواز نے پوچھا۔
عائشہ نے ہمت جمع کر کے جواب دیا، "میں اپنی طاقتوں کو آزمانے اور سیکھنے کے لیے آئی ہوں۔"
آواز نے گونجتے ہوئے کہا، "تو پھر ثابت کرو کہ تم واقعی اس کے قابل ہو!" اور اسی کے ساتھ ہی ایک بڑا سایہ اس کے سامنے آ گیا، جو اس کے پہلے آزمائش کا آغاز تھا۔
کیا عائشہ اس آزمائش کا سامنا کر پائے گی؟ کیا وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اس جادوئی دنیا میں کامیاب ہوگی؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔
Chapter
03
دوستی کا امتحان
سایہ آگے بڑھا اور کہا، "تمہارا پہلا امتحان یہ ہے کہ تم اپنی دوستی کی قوت کو ثابت کرو۔"
عائشہ نے حیرانی سے پوچھا، "دوستی؟"
سایہ نے جواب دیا، "ہاں، تمہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ تم دوستوں کے لیے کیا کچھ کر سکتی ہو۔"
اسی اثنا میں، عائشہ کی دوست لیلا، جو اس کے ساتھ ہمیشہ کھڑی رہی تھی، اچانک اس کی نظروں کے سامنے آ گئی۔ لیلا کسی جال میں پھنسی ہوئی تھی اور مدد کے لیے پکار رہی تھی۔
عائشہ کا دل ڈوبنے لگا۔ اس نے فوراً سوچنا شروع کیا کہ وہ لیلا کو کیسے بچا سکتی ہے۔ عائشہ نے اپنی جادوئی صلاحیتوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور دل سے دعا کی کہ وہ اس لمحے میں اس کی طاقتوں کو صحیح استعمال کر پائے۔
کچھ لمحوں کے بعد، عائشہ کے ہاتھوں میں ایک ہلکی روشنی چمکنے لگی۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا کہ اس روشنی نے جال کو کمزور کر دیا ہے۔ عائشہ نے اپنی طاقت کا استعمال کر کے جال کو توڑ دیا اور لیلا کو آزاد کر دیا۔
لیلا نے عائشہ کو گلے لگا کر کہا، "شکریہ، عائشہ! مجھے معلوم تھا کہ تم مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑو گی۔"
عائشہ نے مسکرا کر کہا، "دوستی کا یہی تو مطلب ہے۔ ہم ایک دوسرے کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑتے۔"
سایہ نے عائشہ کی طرف دیکھا اور کہا، "تم نے پہلا امتحان پاس کر لیا ہے، لیکن آگے اور بھی چیلنجز ہیں۔"
عائشہ نے پرعزم لہجے میں جواب دیا، "میں تیار ہوں۔"
جنگل کے راستے میں چلتے ہوئے، عائشہ نے لیلا سے کہا، "یہ سفر ہم دونوں کے لیے بہت کچھ سکھانے والا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔"
لیلا نے سر ہلا کر کہا، "ہمیشہ، عائشہ۔"
جب وہ دونوں آگے بڑھنے لگیں، تو عائشہ نے محسوس کیا کہ اس کی دوستی کی طاقت نے اسے مزید مضبوط بنا دیا ہے۔ اس نے اپنی اندرونی طاقت کو پہچانا اور جانا کہ دوستی کا صحیح مطلب کیا ہوتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگلا امتحان کیا ہوگا؟ کیا عائشہ اور لیلا اس جادوئی دنیا کی باقی مشکلات کا سامنا کر سکیں گی؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں ان کی کہانی کے اگلے حصے کا انتظار کرنا ہوگا۔
Chapter
04
خود انحصاری کا احساس
"یہ جگہ تو بہت خوبصورت ہے،" لیلا نے کہا، اپنی آنکھیں چاروں طرف گھوماتے ہوئے۔
"ہاں، لیکن ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا،" عائشہ نے جواب دیا۔ "یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔"
چلتے چلتے، وہ دونوں ایک چھوٹے سے تالاب کے قریب پہنچے۔ تالاب کا پانی شفاف تھا، جس میں نیلے اور سبز رنگ کی روشنی جھلک رہی تھی۔ عائشہ نے تالاب کے کنارے بیٹھ کر اپنے ہاتھ پانی میں ڈالے، اور ایک لمحے کے لیے وہ سکون محسوس کرنے لگی۔
"عائشہ، تم نے کبھی سوچا ہے کہ تمہیں یہ جادوئی طاقتیں کیوں ملی ہیں؟" لیلا نے اچانک پوچھا۔
عائشہ نے تھوڑا سا سوچا، پھر بولی، "میرے خیال میں یہ ایک طرح کی ذمے داری ہے۔ شاید مجھے ان طاقتوں کا صحیح استعمال کرنا سیکھنا ہے، تاکہ میں اپنے اور دوسروں کے لیے کچھ اچھا کر سکوں۔"
لیلا نے سر ہلایا، "ہاں، ایسی طاقتیں ہمیشہ کسی مقصد کے لیے ہوتی ہیں۔"
اسی لمحے، تالاب کے پانی میں ہلچل مچ گئی، اور پانی میں سے ایک چھوٹا سا جادوئی مخلوق نمودار ہوا۔ اس کا جسم چمکدار نیلا تھا اور اس کی آنکھیں ستاروں کی طرح چمک رہی تھیں۔
"کون ہو تم؟" عائشہ نے حیرانی سے پوچھا۔
"میں پانی کی پری ہوں،" اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "میں تمہاری مدد کرنے آئی ہوں۔"
عائشہ اور لیلا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر عائشہ نے کہا، "کیسے مدد کر سکتی ہو؟"
پانی کی پری نے کہا، "یہ جنگل ایک امتحان ہے۔ یہاں کی ہر چیز تمہیں کچھ نہ کچھ سکھانے کے لیے ہے۔ تمہیں اپنی اندرونی طاقتوں کو پہچاننا ہوگا، اور خود انحصاری کا احساس کرنا ہوگا۔"
"خود انحصاری؟" عائشہ نے پوچھا۔
"ہاں،" پانی کی پری نے جواب دیا۔ "دوستی اور مدد ایک طرف، لیکن اپنی طاقت کو خود پہچاننا اور اس کا صحیح استعمال کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔"
عائشہ نے پری کی بات غور سے سنی اور اس نے محسوس کیا کہ اس کی بات میں سچائی ہے۔ اسے اب سمجھ آ رہا تھا کہ یہ سفر صرف جادوئی طاقتوں کے بارے میں نہیں، بلکہ خود کو سمجھنے اور مضبوط کرنے کے بارے میں بھی ہے۔
پری نے کہا، "یاد رکھو، جو خود پر اعتماد کرتا ہے، وہی دوسروں کی مدد بھی کر سکتا ہے۔"
عائشہ نے سر ہلایا، "میں کوشش کروں گی۔"
پری نے مسکراتے ہوئے کہا، "میں جانتی ہوں کہ تم کر سکتی ہو۔ اور جب بھی ضرورت ہو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔"
پری کے جانے کے بعد، عائشہ اور لیلا نے دوبارہ سفر کا آغاز کیا۔ عائشہ کے دل میں ایک نیا عزم اور اعتماد تھا۔ اس نے اپنے اندر کی طاقت کو محسوس کیا، اور جانا کہ اصل جادو یہی ہے کہ وہ خود پر یقین رکھے۔
لیکن کیا عائشہ اپنی نئی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کر سکے گی؟ اور کیا وہ اگلے امتحان کا سامنا کر پائے گی؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں اس جادوئی داستان کی اگلی قسط کا انتظار کرنا ہوگا۔
Cast of Characters
Aisha malik
ProtagonistReader Comments
6 readers
Sign in or create an account to leave a comment.
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
The End
My own business
by Noora
0 words · 4 chapters · 1 characters