Choty bachy kay Sath zulam karty hen hain sabb Ghar waly
by
Sajid Bhutto
Adventure
Kids
ماں کی محبت اور دوستی کی تلاش میں، ماں اور کنیز ایک دلچسپ مہم پر نکلتی ہیں جہاں انہیں اپنی طاقت پر یقین کرنا سیکھنا پڑتا ہے۔
Contents
0 words · 3 chapters · 2 characters
Chapter
01
ماں کی مشکل دنیا
چھوٹے گاؤں کے کنارے ایک خوبصورت گھر تھا۔ اس گھر میں ماں رہتی تھیں، جنہیں سب "ماں جی" کہتے تھے۔ ماں جی کے ساتھ ان کی پیاری بیٹی کنیز بھی رہتی تھی۔ کنیز کی عمر صرف آٹھ سال تھی، اور وہ ہمیشہ اپنی ماں کے ساتھ کھیلنا چاہتی تھی۔
ایک دن کنیز نے ماں جی سے پوچھا، "ماں جی، کیا ہم آج جنگل میں چلیں گے؟ مجھے وہاں کی تتلیاں دیکھنی ہیں!"
ماں جی نے مسکراتے ہوئے کہا، "ضرور، کنیز! آج ہم ایک خاص مہم پر نکلیں گے۔"
کنیز خوشی سے اچھل پڑی اور اپنی پسندیدہ سبز ٹوپی پہن لی۔ ماں جی نے بھی اپنی خوبصورت چادر اوڑھی اور دونوں نے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر جنگل کی طرف چلنا شروع کیا۔
جنگل کا راستہ ہرا بھرا اور دلکش تھا۔ درختوں کی چھاؤں میں سے روشنی کی کرنیں جھانک رہی تھیں۔ پرندے چہچہا رہے تھے اور تتلیاں رنگ برنگی پھولوں پر منڈلا رہی تھیں۔
کنیز نے ایک تتلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "ماں جی، دیکھیں! یہ کتنی خوبصورت ہے!"
ماں جی نے سر ہلا کر کہا، "ہاں، کنیز، یہ دنیا کتنی خوبصورت ہے۔ ہمیں قدرت کی قدر کرنی چاہیے۔"
جنگل میں چلتے چلتے ماں جی اور کنیز ایک خوبصورت جھیل کے کنارے پہنچ گئے۔ وہاں پانی میں رنگ برنگی مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ کنیز نے کہا، "ماں جی، کیا ہم ان مچھلیوں کے ساتھ کھیل سکتے ہیں؟"
ماں جی نے ہنستے ہوئے کہا، "ہم انہیں دیکھ سکتے ہیں، لیکن مچھلیوں کو ان کے گھر میں خوش رہنے دینا چاہیے۔"
کنیز نے ماں جی کی بات کو غور سے سنا اور مسکرا کر کہا، "آپ صحیح کہہ رہی ہیں، ماں جی۔"
جب شام ہونے لگی، تو ماں جی اور کنیز نے واپسی کا راستہ لیا۔ راستے میں کنیز نے پوچھا، "ماں جی، کیا ہم کل دوبارہ آئیں گے؟"
ماں جی نے پیار سے کہا، "ضرور، لیکن کل ہم ایک نئی جگہ جائیں گے۔"
کنیز نے خوشی سے کہا، "میں انتظار نہیں کر سکتی!"
یہ سن کر ماں جی نے سوچا کہ اگلے دن کی مہم کو خاص بنانا چاہیے۔ انہوں نے دل میں ایک خاص منصوبہ بنایا، جو کنیز کے لیے ایک حیرت ہوگی۔
اب دیکھتے ہیں کہ اگلے دن ماں جی اور کنیز کس نئی مہم پر نکلتے ہیں اور کس طرح ماں جی کنیز کو ایک خوبصورت سبق سکھاتی ہیں۔
ایک دن کنیز نے ماں جی سے پوچھا، "ماں جی، کیا ہم آج جنگل میں چلیں گے؟ مجھے وہاں کی تتلیاں دیکھنی ہیں!"
ماں جی نے مسکراتے ہوئے کہا، "ضرور، کنیز! آج ہم ایک خاص مہم پر نکلیں گے۔"
کنیز خوشی سے اچھل پڑی اور اپنی پسندیدہ سبز ٹوپی پہن لی۔ ماں جی نے بھی اپنی خوبصورت چادر اوڑھی اور دونوں نے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر جنگل کی طرف چلنا شروع کیا۔
جنگل کا راستہ ہرا بھرا اور دلکش تھا۔ درختوں کی چھاؤں میں سے روشنی کی کرنیں جھانک رہی تھیں۔ پرندے چہچہا رہے تھے اور تتلیاں رنگ برنگی پھولوں پر منڈلا رہی تھیں۔
کنیز نے ایک تتلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "ماں جی، دیکھیں! یہ کتنی خوبصورت ہے!"
ماں جی نے سر ہلا کر کہا، "ہاں، کنیز، یہ دنیا کتنی خوبصورت ہے۔ ہمیں قدرت کی قدر کرنی چاہیے۔"
جنگل میں چلتے چلتے ماں جی اور کنیز ایک خوبصورت جھیل کے کنارے پہنچ گئے۔ وہاں پانی میں رنگ برنگی مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ کنیز نے کہا، "ماں جی، کیا ہم ان مچھلیوں کے ساتھ کھیل سکتے ہیں؟"
ماں جی نے ہنستے ہوئے کہا، "ہم انہیں دیکھ سکتے ہیں، لیکن مچھلیوں کو ان کے گھر میں خوش رہنے دینا چاہیے۔"
کنیز نے ماں جی کی بات کو غور سے سنا اور مسکرا کر کہا، "آپ صحیح کہہ رہی ہیں، ماں جی۔"
جب شام ہونے لگی، تو ماں جی اور کنیز نے واپسی کا راستہ لیا۔ راستے میں کنیز نے پوچھا، "ماں جی، کیا ہم کل دوبارہ آئیں گے؟"
ماں جی نے پیار سے کہا، "ضرور، لیکن کل ہم ایک نئی جگہ جائیں گے۔"
کنیز نے خوشی سے کہا، "میں انتظار نہیں کر سکتی!"
یہ سن کر ماں جی نے سوچا کہ اگلے دن کی مہم کو خاص بنانا چاہیے۔ انہوں نے دل میں ایک خاص منصوبہ بنایا، جو کنیز کے لیے ایک حیرت ہوگی۔
اب دیکھتے ہیں کہ اگلے دن ماں جی اور کنیز کس نئی مہم پر نکلتے ہیں اور کس طرح ماں جی کنیز کو ایک خوبصورت سبق سکھاتی ہیں۔
Chapter
02
دوستی کی طاقت
ماں اور کنیز چمکیلے پتھر کی طرف بڑھی۔ پتھر کی چمک ان کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ جب وہ قریب پہنچے تو پتھر کے پیچھے ایک چھوٹا سا راستہ نظر آیا۔
ماں نے کہا، "یہ راستہ شاید ہمیں خزانے تک لے جائے گا۔"
کنیز نے خوشی سے کہا، "چلو چلتے ہیں، مجھے بہت تجسس ہو رہا ہے۔"
دونوں نے راستے پر چلنا شروع کیا۔ راستہ تھوڑا تنگ تھا، لیکن دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رکھا۔ جیسے جیسے وہ آگے بڑھتے گئے، انہیں مختلف آوازیں سنائی دینے لگیں۔ درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ، پرندوں کی چہچہاہٹ اور دور کہیں پانی کی ہلکی سی آواز۔
کنیز نے کہا، "ماں، یہ آوازیں کتنی خوبصورت ہیں۔"
ماں نے مسکراتے ہوئے کہا، "ہاں، یہ قدرت کا موسیقی ہے۔"
اسی دوران، انہیں ایک چھوٹی سی بلی نظر آئی جو ان کے راستے میں بیٹھی تھی۔ بلی نے ان کی طرف دیکھا اور میاؤں میاؤں کرنے لگی۔
کنیز نے کہا، "ماں، یہ بلی شاید ہمیں کچھ بتانا چاہ رہی ہے۔"
ماں نے کہا، "ہوسکتا ہے، چلیں اسے دیکھتے ہیں۔"
دونوں بلی کے قریب پہنچے۔ بلی نے اپنی دم ہلائی اور ایک طرف چلنے لگی۔ ماں اور کنیز بھی اس کے پیچھے چل پڑے۔
چند منٹوں کے بعد، وہ ایک خوبصورت باغ میں پہنچے۔ باغ میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے اور تتلیاں ہر طرف اڑ رہی تھیں۔ بلی نے ایک جگہ پر رک کر میاؤں کی۔
کنیز نے کہا، "یہ جگہ تو جادوئی ہے، ماں!"
ماں نے غور سے دیکھا اور کہا، "یہی تو خزانے کا حصہ ہو سکتا ہے۔"
اچانک، ایک بوڑھے درخت کے نیچے، انہیں ایک چھوٹا سا صندوق نظر آیا۔ صندوق پر ایک پرانا تالہ لگا ہوا تھا۔
کنیز نے پرجوش ہو کر کہا، "ماں، ہمیں یہ کھولنا ہوگا!"
ماں نے کہا، "ہاں، لیکن یاد رکھو، یہ صرف تب کھلے گا جب ہم اپنی دوستی کی طاقت استعمال کریں گے۔"
کنیز نے کہا، "ہم ایک دوسرے کی مدد کریں گے، ماں!"
دونوں نے مل کر صندوق کو کھولنے کی کوشش کی۔ جیسے ہی انہوں نے صندوق کا تالہ کھولا، اس کے اندر چمکتے ہوئے جواہرات اور سنہری سکے نظر آئے۔
ماں نے کہا، "یہ خزانہ ہماری دوستی کی طاقت کا انعام ہے۔"
کنیز نے خوشی سے کہا، "ماں، میں نے سیکھا کہ جب ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں، تو کچھ بھی ممکن ہے۔"
ماں نے کہا، "ہاں، دوستی کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔"
اب ان کے سامنے بہت سے سوالات تھے: کیا اس خزانے کو کسی خاص مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے؟ کیا انہیں اور راز بھی مل سکتے ہیں؟ یہ سب سوالات انہیں اگلی مہم کے لیے تیار کر رہے تھے۔
ماں نے کہا، "یہ راستہ شاید ہمیں خزانے تک لے جائے گا۔"
کنیز نے خوشی سے کہا، "چلو چلتے ہیں، مجھے بہت تجسس ہو رہا ہے۔"
دونوں نے راستے پر چلنا شروع کیا۔ راستہ تھوڑا تنگ تھا، لیکن دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رکھا۔ جیسے جیسے وہ آگے بڑھتے گئے، انہیں مختلف آوازیں سنائی دینے لگیں۔ درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ، پرندوں کی چہچہاہٹ اور دور کہیں پانی کی ہلکی سی آواز۔
کنیز نے کہا، "ماں، یہ آوازیں کتنی خوبصورت ہیں۔"
ماں نے مسکراتے ہوئے کہا، "ہاں، یہ قدرت کا موسیقی ہے۔"
اسی دوران، انہیں ایک چھوٹی سی بلی نظر آئی جو ان کے راستے میں بیٹھی تھی۔ بلی نے ان کی طرف دیکھا اور میاؤں میاؤں کرنے لگی۔
کنیز نے کہا، "ماں، یہ بلی شاید ہمیں کچھ بتانا چاہ رہی ہے۔"
ماں نے کہا، "ہوسکتا ہے، چلیں اسے دیکھتے ہیں۔"
دونوں بلی کے قریب پہنچے۔ بلی نے اپنی دم ہلائی اور ایک طرف چلنے لگی۔ ماں اور کنیز بھی اس کے پیچھے چل پڑے۔
چند منٹوں کے بعد، وہ ایک خوبصورت باغ میں پہنچے۔ باغ میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے اور تتلیاں ہر طرف اڑ رہی تھیں۔ بلی نے ایک جگہ پر رک کر میاؤں کی۔
کنیز نے کہا، "یہ جگہ تو جادوئی ہے، ماں!"
ماں نے غور سے دیکھا اور کہا، "یہی تو خزانے کا حصہ ہو سکتا ہے۔"
اچانک، ایک بوڑھے درخت کے نیچے، انہیں ایک چھوٹا سا صندوق نظر آیا۔ صندوق پر ایک پرانا تالہ لگا ہوا تھا۔
کنیز نے پرجوش ہو کر کہا، "ماں، ہمیں یہ کھولنا ہوگا!"
ماں نے کہا، "ہاں، لیکن یاد رکھو، یہ صرف تب کھلے گا جب ہم اپنی دوستی کی طاقت استعمال کریں گے۔"
کنیز نے کہا، "ہم ایک دوسرے کی مدد کریں گے، ماں!"
دونوں نے مل کر صندوق کو کھولنے کی کوشش کی۔ جیسے ہی انہوں نے صندوق کا تالہ کھولا، اس کے اندر چمکتے ہوئے جواہرات اور سنہری سکے نظر آئے۔
ماں نے کہا، "یہ خزانہ ہماری دوستی کی طاقت کا انعام ہے۔"
کنیز نے خوشی سے کہا، "ماں، میں نے سیکھا کہ جب ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں، تو کچھ بھی ممکن ہے۔"
ماں نے کہا، "ہاں، دوستی کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔"
اب ان کے سامنے بہت سے سوالات تھے: کیا اس خزانے کو کسی خاص مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے؟ کیا انہیں اور راز بھی مل سکتے ہیں؟ یہ سب سوالات انہیں اگلی مہم کے لیے تیار کر رہے تھے۔
Chapter
03
اپنی طاقت کو پہچاننا
ماں اور کنیز نے خزانے کو غور سے دیکھا۔ جواہرات کی چمک ان کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ ماں نے کنیز کی طرف مسکرا کر کہا، "یہ خزانہ ہماری دوستی کی طاقت کا انعام ہے، لیکن ہمیں اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔"
کنیز نے چمکتے ہوئے سکے اٹھاتے ہوئے کہا، "ماں، کیا ہم اس سے کسی کی مدد کر سکتے ہیں؟"
ماں نے کہا، "ہاں، کنیز، ہمیں اس خزانے کو کسی اچھے مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ شاید ہم ان لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں جنہیں ہماری ضرورت ہے۔"
کنیز نے خوشی سے کہا، "یہ تو بہت اچھا ہوگا، ماں! ہم اپنی طاقت کو دوسرے لوگوں کی مدد کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔"
ماں نے آہستہ سے کہا، "لیکن یاد رکھو، اصل طاقت ہماری دوستی اور ساتھ ہے۔ خزانہ تو صرف ایک ذریعہ ہے۔"
پھر دونوں نے مل کر خزانہ واپس صندوق میں رکھا اور اس پر ایک نیا تالہ لگا دیا تاکہ یہ محفوظ رہ سکے۔
ماں نے کہا، "اب ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم اس خزانے کو کس طرح استعمال کریں گے۔ ہمیں اپنے دل کی سننی ہوگی اور اس کا صحیح راستہ ڈھونڈنا ہوگا۔"
کنیز نے سوالیہ انداز میں پوچھا، "ماں، کیا اس جنگل میں اور بھی خزانے ہو سکتے ہیں؟"
ماں نے مسکرا کر کہا، "شاید، لیکن ہمیں نئے رازوں کی تلاش کے لیے تیار رہنا ہوگا۔"
اچانک، ایک خوبصورت تتلی ان کے قریب آ کر بیٹھ گئی۔ کنیز نے حیرانی سے کہا، "ماں، دیکھو! یہ تتلی کتنی خوبصورت ہے۔"
ماں نے کہا، "یہ قدرت کا خزانہ ہے، کنیز۔ قدرت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر چیز کی اپنی خوبصورتی ہوتی ہے، ہمیں بس اسے پہچاننا ہوتا ہے۔"
کنیز نے کہا، "تو پھر ماں، ہمارا اگلا قدم کیا ہوگا؟"
ماں نے سوچتے ہوئے کہا، "ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری دوستی اور محبت ہمیں کس طرح مزید طاقتور بنا سکتی ہے۔"
کنیز نے جوش سے کہا، "ہم نئی مہمات کی تلاش میں نکلیں گے!"
دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر ایک نیا عزم لے کر اپنی مہم کی طرف بڑھنے لگے۔ ان کے دل میں یہ امید تھی کہ ان کی دوستی کی طاقت انہیں ہر مشکل سے نکال لے گی۔
اچانک، جنگل میں ایک پرانا نقشہ ہوا سے اڑتا ہوا ان کے قدموں میں آ گرا۔ ماں اور کنیز نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ کیا یہ نقشہ انہیں کسی نئے راز کی طرف لے جائے گا؟ یہ سوال ان کے دلوں میں گونج رہا تھا، اور انہیں اگلی مہم کے لیے تیار کر رہا تھا۔
کنیز نے چمکتے ہوئے سکے اٹھاتے ہوئے کہا، "ماں، کیا ہم اس سے کسی کی مدد کر سکتے ہیں؟"
ماں نے کہا، "ہاں، کنیز، ہمیں اس خزانے کو کسی اچھے مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ شاید ہم ان لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں جنہیں ہماری ضرورت ہے۔"
کنیز نے خوشی سے کہا، "یہ تو بہت اچھا ہوگا، ماں! ہم اپنی طاقت کو دوسرے لوگوں کی مدد کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔"
ماں نے آہستہ سے کہا، "لیکن یاد رکھو، اصل طاقت ہماری دوستی اور ساتھ ہے۔ خزانہ تو صرف ایک ذریعہ ہے۔"
پھر دونوں نے مل کر خزانہ واپس صندوق میں رکھا اور اس پر ایک نیا تالہ لگا دیا تاکہ یہ محفوظ رہ سکے۔
ماں نے کہا، "اب ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم اس خزانے کو کس طرح استعمال کریں گے۔ ہمیں اپنے دل کی سننی ہوگی اور اس کا صحیح راستہ ڈھونڈنا ہوگا۔"
کنیز نے سوالیہ انداز میں پوچھا، "ماں، کیا اس جنگل میں اور بھی خزانے ہو سکتے ہیں؟"
ماں نے مسکرا کر کہا، "شاید، لیکن ہمیں نئے رازوں کی تلاش کے لیے تیار رہنا ہوگا۔"
اچانک، ایک خوبصورت تتلی ان کے قریب آ کر بیٹھ گئی۔ کنیز نے حیرانی سے کہا، "ماں، دیکھو! یہ تتلی کتنی خوبصورت ہے۔"
ماں نے کہا، "یہ قدرت کا خزانہ ہے، کنیز۔ قدرت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر چیز کی اپنی خوبصورتی ہوتی ہے، ہمیں بس اسے پہچاننا ہوتا ہے۔"
کنیز نے کہا، "تو پھر ماں، ہمارا اگلا قدم کیا ہوگا؟"
ماں نے سوچتے ہوئے کہا، "ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری دوستی اور محبت ہمیں کس طرح مزید طاقتور بنا سکتی ہے۔"
کنیز نے جوش سے کہا، "ہم نئی مہمات کی تلاش میں نکلیں گے!"
دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر ایک نیا عزم لے کر اپنی مہم کی طرف بڑھنے لگے۔ ان کے دل میں یہ امید تھی کہ ان کی دوستی کی طاقت انہیں ہر مشکل سے نکال لے گی۔
اچانک، جنگل میں ایک پرانا نقشہ ہوا سے اڑتا ہوا ان کے قدموں میں آ گرا۔ ماں اور کنیز نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ کیا یہ نقشہ انہیں کسی نئے راز کی طرف لے جائے گا؟ یہ سوال ان کے دلوں میں گونج رہا تھا، اور انہیں اگلی مہم کے لیے تیار کر رہا تھا۔
Cast of Characters
Maami
ProtagonistHum kaha jayen
K
Kaneez
ProtagonistReader Comments
4 readers
Sign in or create an account to leave a comment.
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
The End
Choty bachy kay Sath zulam karty hen hain sabb Ghar waly
by Sajid Bhutto
0 words · 3 chapters · 2 characters
Made with StoryMaker