By the Ramzan
by
Mudasar Hussain
یہ کہانی عائشہ کی ہے جو ایک محنتی اور دیانتدار لڑکی ہے۔ اُس کی دوست مریم چالاکی سے عائشہ کی محنت کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے، مگر آخر میں عائشہ کی سچائی اور دوستی کی اہمیت کو سمجھ کر مریم اپنی غلط...
Contents
0 words · 3 chapters · 1 characters
Chapter
01
پہلا دن اسکول کا
جب وہ کلاس روم میں داخل ہوئی، تو اُس نے دیکھا کہ سب بچے اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سب کو ایک دوسرے کے بارے میں جاننے کی بہت جلدی تھی۔ عائشہ نے بھی اپنی جگہ تلاش کی اور بیٹھ گئی۔
تھوڑی دیر بعد، ایک لڑکی اُس کے پاس آئی۔ "ہیلو، میں مریم ہوں۔ تمہارا نام کیا ہے؟" اُس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
"ہیلو، میں عائشہ ہوں۔" عائشہ نے جواب دیا۔
"کیا تمہیں یہاں آ کر اچھا لگ رہا ہے؟" مریم نے پوچھا۔
"ہاں، بہت مزہ آ رہا ہے۔ میں نئے دوست بنانے کیلئے بہت پرجوش ہوں،" عائشہ نے خوشی سے کہا۔
مریم نے دیکھا کہ عائشہ کی آنکھوں میں سچائی کی چمک تھی اور اُس کی مسکراہٹ میں اخلاص تھا۔ مریم نے سوچا کہ یہ لڑکی اُس کی بہت کام آ سکتی ہے۔
کلاس کا وقت شروع ہوا اور ٹیچر نے بورڈ پر چند سوالات لکھے۔ "یہ سوالات آج کے پروجیکٹ کے لئے ہیں،" ٹیچر نے اعلان کیا۔
عائشہ نے جلدی سے نوٹ بک نکالی اور سوالات لکھنے لگی۔ مریم نے دیکھا کہ عائشہ کس قدر محنت اور توجہ سے کام کر رہی تھی۔
"کیا تم میری مدد کر سکتی ہو؟" مریم نے اچانک عائشہ سے پوچھا۔
"ضرور، ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے،" عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
دن کے آخر میں، جب سب بچے اپنی اپنی جگہ سے اٹھنے لگے، مریم نے عائشہ کی نوٹ بک چھپکے سے اپنے بیگ میں ڈال لی۔ اُس نے سوچا کہ وہ عائشہ کے پروجیکٹ کی مدد سے اپنی ٹیچر سے تعریف حاصل کر لے گی۔
لیکن عائشہ نے ابھی تک نہیں دیکھا تھا کہ اُس کی نوٹ بک غائب تھی۔ وہ خوشی خوشی گھر چل دی، یہ سوچتے ہوئے کہ کل بھی اُسے نئے دوستوں کے ساتھ مل کر پڑھنا ہے۔
اگلے دن کیا ہوگا؟ کیا عائشہ کو اپنی نوٹ بک ملے گی؟ کیا مریم اپنی چالاکی میں کامیاب ہو جائے گی؟ یہ سب جاننے کے لیے اگلے باب کا انتظار کریں۔
Chapter
02
غیر متوقع انعام
عائشہ نے مریم کو دیکھا، جو کمرے کے کونے میں بیٹھی اپنی نوٹ بک میں کچھ لکھ رہی تھی۔ عائشہ نے سوچا کہ وہ مریم سے مدد لے سکتی ہے۔ "مریم، کیا تم نے میری نوٹ بک دیکھی ہے؟" اُس نے نرمی سے پوچھا۔
مریم نے اپنی آنکھیں جھپکائیں اور کہا، "نہیں، عائشہ، میں نے تو نہیں دیکھی۔" اُس کے چہرے پر چالاکی کی ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
عائشہ نے خود کو تسلی دی اور سوچا کہ شاید اُس نے نوٹ بک گھر چھوڑ دی ہوگی۔ اُسے اپنی سچائی اور محنت پر بھروسہ تھا۔ "چلو، میں نیا پروجیکٹ دوبارہ تیار کر لوں گی،" اُس نے خود سے عزم کیا۔
کلاس کے دوران، جب ٹیچر نے پروجیکٹ کے بارے میں پوچھا، تو مریم نے عائشہ کی نوٹ بک پیش کرتے ہوئے کہا، "میڈم، میں نے یہ پروجیکٹ بنایا ہے!"
ٹیچر نے نوٹ بک کو دیکھتے ہوئے کہا، "بہت اچھا کام کیا ہے، مریم!" وہ متاثر ہوئیں۔ عائشہ نے حیرت سے سب کچھ دیکھا، مگر کچھ نہ کہا۔
جب بریک ہوئی، تو عائشہ نے مریم کے پاس جا کر کہا، "مریم، یہ تو میری نوٹ بک ہے۔"
مریم نے تھوڑی دیر کے لئے سوچا اور پھر شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ "ہاں، یہ سچ ہے،" اُس نے مان لیا۔ "مجھے معاف کر دو، عائشہ۔ میں نے غلطی کی۔"
عائشہ نے مریم کو معاف کر دیا اور کہا، "دوستی میں کبھی کبھی غلطیاں ہو جاتی ہیں، لیکن ہمیں اُن سے سبق سیکھنا چاہیے۔"
مریم نے عائشہ کی سچائی اور دوستی کی قدر کو سمجھا اور وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کبھی ایسی غلطی نہیں کرے گی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور یوں ایک نئی دوستی کا آغاز ہوا۔
دن کے آخر میں، جب دونوں دوست گھر جا رہی تھیں، مریم نے عائشہ کو ایک چھوٹا سا تحفہ دیا۔ "یہ تمہارے لئے ہے، میرے سچے دوست کے لئے۔"
عائشہ نے تحفہ کھولا تو اُس میں ایک خوبصورت ڈائری تھی، جس پر لکھا تھا، "سچائی کا انعام۔"
عائشہ نے مسکرا کر کہا، "شکریہ مریم، یہ بہت خوبصورت ہے۔"
اب عائشہ اور مریم دونوں کو معلوم تھا کہ دوستی کی قیمت سب سے زیادہ ہوتی ہے اور سچائی ہمیشہ جیتتی ہے۔
لیکن کیا یہ دوستی ہمیشہ مضبوط رہے گی؟ کیا مریم واقعی بدل گئی ہے؟ یہ سب جاننے کے لیے اگلے باب کا انتظار کریں۔
Chapter
03
دوستی کی روشن راہ
کلاس میں داخل ہوتے ہی عائشہ نے مریم سے کہا، "آج کا پروجیکٹ بہت دلچسپ ہوگا۔ ہم مل کر کچھ نیا سیکھیں گے۔"
مریم نے ہنستے ہوئے کہا، "ہاں، اور اس بار میں پوری محنت کروں گی، وعدہ!"
دونوں دوستوں نے مل کر پروجیکٹ کے لئے مواد جمع کیا۔ عائشہ نے اپنی محنتی طبیعت کے مطابق معلومات کو ترتیب دینا شروع کیا، جبکہ مریم نے رنگ برنگے چارٹس بنائے۔ وہ دونوں بہت خوش تھیں کہ وہ مل کر کام کر رہی ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کر رہی ہیں۔
پروجیکٹ کے دوران، عائشہ نے مریم کو بتایا کہ کس طرح درخت زمین کے لئے فائدہ مند ہوتے ہیں۔ "درخت ہمیں آکسیجن دیتے ہیں اور زمین کی خوبصورتی کو بڑھاتے ہیں۔ ہمیں انہیں بچانا چاہیے۔"
مریم نے حیرت سے کہا، "مجھے یہ معلوم نہیں تھا۔ یہ واقعی بہت اہم بات ہے۔"
جب پروجیکٹ پیش کرنے کا وقت آیا، تو دونوں نے مل کر اپنی محنت کا مظاہرہ کیا۔ کلاس کے سب بچوں نے اُن کی تعریف کی اور اُستاد نے اُنہیں شاباش دی۔ مریم نے پہلی بار محسوس کیا کہ محنت کرنے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔
پروجیکٹ کے بعد، مریم نے عائشہ سے کہا، "تمہاری مدد سے میں نے سیکھا کہ محنت کا مزہ کیا ہوتا ہے۔ اب میں بھی کوشش کروں گی کہ ہمیشہ محنت کروں اور سچائی کو اپناؤں۔"
عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا، "اور میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔ ہم ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں اور بہتر دوست بن سکتے ہیں۔"
گھر جاتے ہوئے، دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہر ہفتے مل کر کسی نہ کسی موضوع پر نئی چیزیں سیکھیں گی اور ایک دوسرے کی مدد کریں گی۔ عائشہ اور مریم نے محسوس کیا کہ دوستی کی اصل خوبصورتی ایک دوسرے کی مدد اور سچائی میں ہے۔
لیکن کیا واقعی مریم ہمیشہ اسی طرح محنتی رہے گی؟ کیا کوئی نیا امتحان اُن کی دوستی کے لئے منتظر ہے؟ یہ سب جاننے کے لیے اگلے باب کا انتظار کریں۔
Cast of Characters
Aysha
ProtagonistAysha: Ek Nek-Dil Shakhsiyat Background: Aysha ek aise gharane se talluq rakhti hai jahan paise se zyada akhlaq (manners) ko ehmiyat di jati hai. Uske walid ek mehnti insan hain, aur unhone Aysha ko sikhaya hai ki hamesha haq aur sachai ka sath do. Zehniyat (Mindset): Wo manti hai ki mehnat ka phal hamesha meetha hota hai. Wo dusron ki madad karke khushi mehsoos karti hai aur kabhi kisi ka bura nahi chahti. Appearance: Wo sadgi pasand hai aur hamesha saaf-suthre kapde pehenti hai. Uske chehre par ek aisi sukoon aur muskurahat rehti hai jo uski nek-dili ko dikhati hai. Maryam: Ek Chalaak Dost Background: Maryam thode ameer ghar se hai, isliye use lagta hai ki wo har cheez paise ya chalaaki se hasil kar sakti hai. Use lagta hai ki mehnat karna waqt ki barbadi hai. Zehniyat (Mindset): Wo hamesha is talash mein rehti hai ki kaise dusron ka kaam apna bata kar tareef hasil ki jaye. Wo Aysha ki sadgi ka faida uthane ki koshish karti hai. Appearance: Wo hamesha bharkile aur naye fashion ke kapde pehenti hai aur apne aap ko dusron se behtar dikhane ki koshish karti hai. Kahaani ka Manzar (Setting): Kahaani ka background ek school ka hai jahan dono saheliyan ek saath parhti hain. Project ke bahane Maryam, Aysha ki mehnat ko chura leti hai, lekin akhir mein jab asliyat samne aati hai, to Maryam ko sharmindagi uthani parhti hai. Isse ye sabit hota hai ki "Jaisa Karoge, Waisa Bharoge."
Reader Comments
3 readers
Sign in or create an account to leave a comment.
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
The End
By the Ramzan
by Mudasar Hussain
0 words · 3 chapters · 1 characters